امام صاحب کا صف کے درمیان میں کھڑا ہونا مسنون ہے اور اس انداز میں کھڑا ہونا کہ ایک طرف مقتدی زیادہ ہو اور دوسری طرف کم یہ مکروہ ہے۔ اسی لیے صف کے درمیان کی جگہ کے تعین کےلئے محراب بنایا جاتاہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں بہتر تو یہ ہے کہ محراب کو بھی درمیان میں کر دیا جائے لیکن اگر اس میں دشواری اور حرج کثیر ہو تو امام صاحب کو چاہیے کہ محراب سے ہٹ کر ایک صف پیچھے درمیان میں کھڑے ہو جایا کریں ۔ اور جب مسجد میں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہو جیسے جمعہ اور عیدین وغیرہ میں تو محراب میں کھڑے ہونے کے بجائے امام صاحب صف کے درمیان میں ایک قدم آگے کھڑے ہو۔
(فتاوی محمودیہ (447/14) فاروقيہ، تبویب جامعہ احسان القرآن(84/20))
السنن الكبرى للبيهقي (3/ 147) العلمية
“قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” توسطوا الإمام، وسدوا الخلل
رد المحتار (2/ 371) رشيدية
(قوله ويقف وسطا) قال في المعراج: وفي مبسوط بكر: السنة أن يقوم في المحراب ليعتدل الطرفان، ولو قام في أحد جانبي الصف يكره، ولو كان المسجد الصيفي بجنب الشتوي وامتلأ المسجد يقوم الإمام في جانب الحائط ليستوي القوم من جانبيه والأصح ما روي عن أبي حنيفة أنه قال: أكره أن يقوم بين الساريتين أو في زاوية أو في ناحية المسجد أو إلى سارية لأنه خلاف عمل الأمة. قال – عليه الصلاة والسلام – «توسطوا الإمام وسدوا الخلل» ومتى استوى جانباه يقوم عن يمين الإمام إن أمكنه وإن وجد في الصف فرجة سدها… السنة أن يقوم الإمام إزاء وسط الصف، ألا ترى أن المحاريب ما نصبت إلا وسط المساجد وهي قد عينت لمقام الإمام اهـ. والظاهر أن هذا في الإمام الراتب لجماعة كثيرة لئلا يلزم عدم قيامه في الوسط، فلو لم يلزم ذلك لا يكره تأمل.
رد المحتار (2/500) رشيدية
قلت: أي لأن المحراب إنما بني علامة لمحل قيام الإمام ليكون قيامه وسط الصف كما هو السنة.