البحر الرائق (5/316) رشیدیة
وأما الإسلام فليس من شرطه فصح وقف الذمي بشرط كونه قربة عندنا وعندهم۔
رد المحتار على الدر المختار (4/ 341)
أن شرط وقف الذمي أن يكون قربة عندنا وعندهم كالوقف على الفقراء أو على مسجد القدس۔
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 731)
فليس بشرط فلو وقف الذمي على ولده ونسله وجعل آخره للمساكين جاز ۔۔۔ إذا وقف على مسجد بيت المقدس فإنه صحيح لأنه قربة عندنا وعندهم۔
کفایت المفتی (10/293)
فتاویٰ محمودیہ (15/ 137) جامعہ فاروقیہ کراچی۔
اگر کوئی غیرمسلم مسجد میں روپیہ وغیرہ دے اور بنیت ِ حصول ثواب یعنی اس کو عبادت سمجھ کر تو شرعاً اس کا مسجد میں لینا درست ہے ۔ اور اگرکوئی مانع ہو مثلاً : اس روپیہ کی وجہ سے کسی فتنہ کا اندیشہ ہو یا اہل اسلام پر احسان سمجھ کر دے یا احسان کا اظہار کرے وغیرہ وغیرہ تو امر آخر ہے۔ اس لیے بہتر صورت یہ ہے کہ وہ روپیہ کسی مسلم کو دے دے اور پھروہ مقروض یا دیگر مسلم اس روپیہ کو مسجد میں دے دے او راس روپیہ کو تعمیر مسجد میں خرچ کرنا درست ہے۔