اگرچندہ دہندگان کی طرف سے تبلیغی جماعت کےقیام کی صورت میں بجلی وغیرہ کے استعمال کی اجازت ہو تو مذکورہ استعمال پر کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ لیکن اگر مذکورہ صورت نہ ہو تو مسجد کی بجلی کسی کے لیے اپنے ذاتی کاموں میں (مثلاً کپڑے استری کرنا ،موبائل چارج کرنا وغیرہ ) استعمال کرنے کی شرعا ً اجازت نہیں ہے ۔ایسی صورت میں اگر استعمال ناگزیر ہو تو محتاط اندازے سے اس کی قیمت مسجد میں جمع کروا دیں ۔
الفتاوى الهندية (2/ 459)
ولو وقف على دهن السراج للمسجد لا يجوز وضعه جميع الليل بل بقدر حاجة المصلين ويجوز إلى ثلث الليل أو نصفه إذا احتيج إليه للصلاة فيه، كذا في السراج الوهاج
الفتاوى الهندية (2/ 462)
متولي المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان
الفتاوى الهندية (2/ 463)
وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك، إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف، كذا في الذخيرة
رد المحتار (4/ 458)
وعن هذا أفتى في الحامدية بأنه ليس للمتولي التصرف في أمور الوقف، بدون إذن المشرف واطلاعه
احسن الفتاوی (9/431)