بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسجد میں نقش و نگار والی ٹائل استعمال کرنا

سوال

مسجد کی ٹائل پر نقش و نگا ر بنا ہوا ہے آیا کہ یہ تصویر ہے ، اگر یہ تصویر ہے تو کیا اسے مسجد کی دیوار سے ہٹانا چاہیے یا نہیں؟

جواب

سوا ل کے ساتھ ملحق پرنٹ میں نقش و نگار اور بیل بوٹے ہیں ،کسی جاندار کی تصویر وغیرہ ، نہیں، لہذا اس ٹائل کے استعمال میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ۔
الدر المختار (6/ 386)دارالفكر
(و) جاز (تحلية المصحف) لما فيه من تعظيمه كما في نقش المسجد۔
رد المحتار(6/ 386)ایضاً
(قوله وجاز تحلية المصحف) أي بالذهب والفضة خلافا لأبي يوسف كما قدمناه (قوله كما في نقش المسجد) أي ما خلا محرابه أي بالجص وماء الذهب۔
الدر المختار  مع رد المحتار(1/ 658) ایضاً
(ولا بأس بنقشه خلا محرابه).. (بجص وماء ذهب) لو (بماله) الحلال (لا من مال الوقف) فإنه حرام۔
رد المحتار(1/ 658) ایضاً
(قوله ويكره التكلف إلخ) تخصيص لما في المتن من نفي البأس بالنقش، ولهذا قال في الفتح: وعندنا لا بأس به، ومحمل الكراهة التكلف بدقائق النقوش ونحوه خصوصا في المحراب اهـ فافهم۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس