بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسجد میں ضرورتاً خریدو فروخت کا طریقہ

سوال

کیا فرماتےہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجدمیں خریدوفروخت کن صورتوں میں جائزہےاورکن صورتوں میں جائزنہیں؟

جواب

مسجدمیں خریدوفروخت کرناجائزنہیں صرف اس شخص کےلئےبقدرِضرورت زبانی خریدوفروخت کی گنجائش ہےجومسجدمین اعتکاف کی حالت میں ہوبشرطیکہ سامان مسجدمیں نہ لائے۔
البحر الرائق (2/ 503)رشيدية
(قوله: وأكله وشربه ونومه ومبايعته فيه) يعني يفعل المعتكف هذه الأشياء في المسجد وقيد بالمعتكف؛ لأن غيره يكره له البيع مطلقا لنهيه – عليه السلام – عن البيع والشراء في المسجد وكذا كره فيه التعليم والكتابة والخياطة بأجر وكل شيء يكره فيه كره في سطحه
الدر المختار (2/ 506)رشيدية
(وكره) أي تحريما لأنها محل إطلاقهم بحر (إحضار مبيع فيه) كما كره فيه مبايعة غير المعتكف مطلقا للنهي
الفتاوى الهندية (5/ 396)دارالكتب العلمية
رجل يبيع التعويذ في المسجد الجامع ويكتب في التعويذ التوراة والإنجيل والفرقان ويأخذ عليه المال ويقول: ادفع إلي الهدية. لا يحل له ذلك، كذا في الكبرى.ويكره كل عمل من عمل الدنيا في المسجد
کذا في فتاوى محموديہ(15/267)دارالافتاجامعہ فاروقيہ
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس