بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسجد سے ہٹ کر ملحقہ حصے میں نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب ملے گا یا نہیں؟

سوال

 ایک مسجد زیر تعمیر ہے مسجد کا صحن تعمیر ہو چکا ہے جبکہ ہال تعمیرنہیں ہوا مسجد کے ملحقہ دو کمرے  ہیں جن کے او پر امام مسجد کی رہائش ہےاس میں نماز پنجگانہ ادا کر رہے ہیں ۔صحن میں گرمی اور مچھروں کے دق کرنے کے باعث آیا مسجد کے ملحقہ کمروں میں نماز پڑھنا درست ہے  یا نہیں؟اور ان اعذار کی وجہ سے کمروں میں نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب ملے گا یا نہیں جبکہ نمازی حضرات جمعہ ،ظہر،عصر کی نماز صحن ہی میں پڑ ھ لیتے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب اور فضیلت الگ ہے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کاثواب الگ ہے اگر کسی شخص نے مسجد سے باہر کسی جگہ با جماعت نماز پڑھ لی تو اسے جماعت کا ثواب تو حاصل ہوگا لیکن مسجد کی فضیلت اور ثواب حاصل نہ ہوگا لہذا حتی الامکان بغیر کسی مجبوری مسجد کی جماعت نہیں چھوڑنی چاہیے البتہ اگر واقعۃً کوئی مجبوری یا عذر ہو جیسا کہ سوال میں گرمی کی شدت اور مچھروں کے دق کرنے سے متعلق صورت حال لکھی گئی ہے تو ایسی صورت میں مسجد کے ملحقہ کمروں میں نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے لیکن اس میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ مسجد سے باہر نماز صرف اسی وقت ادا کی جائے جب واقعتاً مذکورہ عذر  موجود ہو۔
الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(1/ 554)ایچ۔ایم۔سعید
(فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج)۔
رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(1/ 554)ایچ۔ایم۔سعید
(قوله من غير حرج) قيد لكونها سنة مؤكدة أو واجبة، فبالحرج يرتفع الإثم ويرخص في تركها ولكنه يفوته الأفضل بدليل «أنه – عليه الصلاة والسلام – قال لابن أم مكتوم الأعمى لما استأذنه في الصلاة في بيته: ما أجد لك رخصة»۔
 الفتاوى الهندية،لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدین البلخی (1/ 116)رشيدية
والصحيح أن للجماعة في البيت فضيلة وللجماعة في المسجد فضيلة أخرى فإذا صلى في البيت بجماعة فقد حاز فضيلة أدائها بالجماعة وترك الفضيلة الأخرى، هكذا قاله القاضي الإمام أبو علي النسفي، والصحيح أن أداءها بالجماعة في المسجد أفضل۔
المحيط البرهاني،محمود بن احمد(م:616ھ)(2/ 251)بیروت
وصلی في بيته، فقد ترك الفضيلة ولم يكن مسيئاً، وإن صلوا بالجماعة في البيت فقد اختلف المشايخ فيه، والصحيح أن للجماعة في البيت فضيلة ،وللجماعۃ فی المسجد  فضیلۃ أخرى، فهذا  جاء بإحدى الفضيلتين وترك الفضيلة الزائدة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس