ایک مقام پر مسجد کی تعمیر ِنو کا عمل جاری ہے۔ پرانی مسجد کی جگہ کم پڑ گئی ہے، اور پیچھے کی سمت توسیع کی گنجائش نہیں۔ ایسی صورت میں آگے کی سمت ایک شخص (جو زمین کا مالک ہے) نے اپنی زمین کا اوپر والا حصہ مسجد کے لیے دے دیا ہے، یعنی لینٹر ڈال کر فرش بنایا گیا ہے جس پر نماز ادا کی جاتی ہے، اور اسی حصے میں محراب بھی بنا دی گئی ہے۔ تاہم نیچے کی جگہ (زمین کی سطح) کو مالک نے اپنے ذاتی استعمال (مثلاً گھر کے راستے اور جانوروں کے لیے) کے لیے محفوظ رکھا ہے، وہ اس پر تصرف بھی کر رہا ہے۔
اب بعض حضرات کا کہنا ہے کہ چونکہ زمین نیچے سے وقف نہیں کی گئی، اس لیے اوپر والا حصہ مسجد شرعی نہیں کہلا سکتا۔ وہاں اعتکاف کرنا جائز نہیں، اور وہاں نماز پڑھنے کا ثواب عام جگہ پر نماز پڑھنے کے برابر ہے، مسجد کا مخصوص ثواب حاصل نہیں ہوتا۔ازراہِ کرم راہنمائی فرمائیں کہ
نمبر۱۔کیا ایسی جگہ مسجد شرعی کے حکم میں آئے گی؟
نمبر۲۔ کیا وہاں اعتکاف درست ہے؟
نمبر ۳۔ کیا وہاں نماز پڑھنے کا ثواب مسجد والا ہے یا عام جگہ والا؟
نمبر۴۔اگر جواب نہیں میں ہے تو اس حصے کو مسجد شرعی بنانے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟
مسجدِ شرعی ہونے کیلیے ضروری ہے کہ مسجد نیچے سے اوپر تک مسجد یا مصالحِ مسجد کیلیے وقف ہو۔ البتہ ضرورت کے وقت مسجد بنانے سے پہلے مسجد کے نچلے حصے کو یا بالائی حصہ کو مسجد سے مستثنیٰ کرنے کی فقہاءِ کرام نے اجازت دی ہے ،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ مسجد کے نچلے یا بالائی حصہ (جس کو مسجد سے مستثنیٰ کیا گیا ہے)کے ساتھ کسی بندہ کی ذاتی ملکیت باقی نہ رہے ،ذاتی ملکیت کا اس سے بالکل منقطع ہونا ضروری ہے ۔لہذ اگر کوئی زمین مسجد کےلیے وقف ہو اور مسجد بنانے سے پہلے اس کے نیچے کی جگہ کو مسجد کی ضروریات (مثلاً وضو خانہ ،امام کی رہائش گاہ وغیرہ) یا مسجد کی آمدنی کےلیے دکانیں بنانے یا دیگر رفاہی کاموں جیسے ہسپتال ،لائیبریری وغیرہ بنانے کےلیے مستثنیٰ کر دیا جائے تو اس صورت میں اوپر والی تعمیر مسجدِ شرعی کے حکم میں ہوگی ۔تاہم مصالحِ مسجد کےلیے مستثنیٰ کرنے کی صورت میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ جو رفاہی چیزیں بذاتِ خود احترامِ مسجد کے خلاف ہیں (جیسے : بیت الخلاء،استنجاء خانہ اور غسل خانہ وغیرہ) ان کو مسجد کے اوپر یا نچلے حصے میں مستقل طور پر نہ بنایا جائے۔ہاں امام کا رہائشی مکان ،مدرسہ یا ہسپتال بنایا جائے اور ان کے ضمن میں بیت الخلاء اور غسل خانہ وغیرہ بھی بنا لیے جائیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔(ماخذہ:تبویب درالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی ،مصدقہ فتویٰ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مد ظلہ،فتویٰ نمبر:15/182)
جہاں مسجد کے نیچے والی جگہ کو وقف نہیں کیا گیا بلکہ مالک نے اس کو اپنی ملکیت میں ہی رکھا ہوا ہے وہاں عام حالات میں اوپر کی جگہ مسجدِ شرعی نہیں ہو گی ۔تاوقتیکہ اس سے مالک اپنا حق بالکلیہ ختم کر کے وقف کر دے ۔اور اس میں اعتکاف کرنا جائز نہیں ،معتکفین اگر اس حصہ میں جائیں گے تو ان کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔نیز اس جگہ نماز پڑھنے سے مسجد کی فضیلت و ثواب بھی حاصل نہیں ہوگا۔
مذکورہ بالا تمہید کے بعد صورتِ مسئولہ میں صرف بالائی سطح مسجد کےلیے وقف کرنے سے شرعاً وہ مسجدِ شرعی کے حکم میں نہیں ہوگی ۔وہاں نہ اعتکاف درست ہے اور نہ ہی اس جگہ نماز پڑھنے کا ثواب مسجد میں نماز پڑھنے کے برابر ہے ۔اس لیے مالک کو چاہئے کہ نیچے کی جگہ کو باقاعدہ مسجد کےلیے وقف کر دے یہ عمل اس کےلیے صدقہ جاریہ ہوگا۔ جب تک لوگ مسجد میں عبادت کریں گے ان شاء اللہ اس کو بھی اجر و ثواب میں سے حصہ ملتا رہے گا۔ (ماخذہ :امداد الاحکام،۱/۴۴۳،۴۴۷) دارالعلوم)
البحر الرائق شرح (5/ 271)
(قوله ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل بابه إلى الطريق وعزله أو اتخذ وسط داره مسجدا وأذن للناس بالدخول فله بيعه ويورث عنه) لأنه لم يخلص لله تعالى لبقاء حق العبد متعلقا به والسرداب بيت يتخذ تحت الأرض لغرض تبريد الماء وغيره كذا في فتح القدير وفي المصباح السرداب المكان الضيق يدخل فيه والجمع سراديب. اهـ. وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18] بخلاف ما إذا كان السرداب أو العلو موقوفا لمصالح المسجد فإنه يجوز إذ لا ملك فيه لأحد بل هو من تتميم مصالح المسجد فهو كسرداب مسجد بيت المقدس هذا هو ظاهر المذهب
الاختيار لتعليل المختار (3/ 44)
لم يخلص المسجد لله – تعالى – بأن كان تحته سرداب أو فوقه بيت، أو جعل وسط داره مسجدا وأذن للناس بالدخول والصلاة فيه لا يصير مسجدا ويورث عنه، إلا إذا كان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو كانا وقفا عليه
بدائع الصنائع (6/ 219)
الوقف ليس إلا إزالة الملك عن الموقوف وجعله لله تعالى خالصا فأشبه الإعتاق وجعل الأرض أو الدار مسجدا
فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 207)
وحاصله أن المسجد جعل لله تعالى على الخلوص محررا عن أن يملك العباد فيه شيئا
غير العبادة فيه
حاشية الشلبي على تبيين الحقائق (3/ 330)
(قوله والمسجد لا يكون إلا خالصا لله تعالى إلخ) ولأن اتخاذ المسجد عرف بالشريعة وفي الشريعة لم يكن المسجد إلا وما فوقه وتحته لله ألا ترى إلى مسجد رسول الله – صلى الله عليه وسلم – الذي بناه بالمدينة وإلى المسجد الحرام الذي بناه إبراهيم – صلوات الله وسلامه عليه – بمكة وإلى مسجد بيت المقدس الذي بناه داود النبي – صلوات الله وسلامه عليه – بالرخام والمرمر وجعل عليه قبة من ياقوت أحمر وجعل فوق ذلك جوهرا يضيء فراسخ تغزل بضوئها النساء في ظلمة الليالي فكل مسجد لم يكن كذلك بأن لا يكون خالصا لله لم يجز أورد أبو الليث هنا سؤالا وجوابا فقال فإن قيل أليس مسجد بيت المقدس تحته مجتمع الماء والناس ينتفعون به قيل إذا كان تحته شيء ينتفع به عامة المسلمين يجوز لأنه إذا انتفع به عامة المسلمين صار ذلك لله تعالى أيضا. وأما الذي اتخذ بيتا لنفسه لم يكن خالصا لله تعالى فإن قيل لو جعل تحته حانوتا وجعله وقفا على المسجد قيل لا يستحب ذلك ولكنه لو جعل في الابتداء هكذا صار مسجدا وما تحته صار وقفا عليه ويجوز المسجد والوقف الذي تحته ولو أنه بنى المسجد أولا ثم أراد أن يجعل تحته حانوتا للمسجد فهو مردود باطل0
رد المحتار (1/ 656)
(قوله: لأنه مسجد إلى عنان السماء) بفتح العين، وكذا إلى تحت الثرى كما في البيري عن الإسبيجابي. بقي لو جعل الواقف تحته بيتا للخلاء هل يجوز كما في مسجد محلة الشحم في دمشق؟ لم أره صريحا، نعم سيأتي متنا في كتاب الوقف أنه لو جعل تحته سردابا بالمصالحة جاز تأمل
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 108)
وأما شرائط صحته فنوعان: نوع يرجع إلى المعتكف، ونوع يرجع إلى المعتكف فيه. وأما الذي يرجع إلى المعتكف فيه: فالمسجد وإنه شرط في نوعي الاعتكاف: الواجب والتطوع؛ لقوله تعالى {ولا تباشروهن وأنتم عاكفون في المساجد} [البقرة: 187] وصفهم بكونهم عاكفين في المساجد0
البحر الرائق (5/ 269)
وعن محمود الأوزجندي لا يجوز الاعتكاف في مسجد زقاق غير نافذ لأن طريقه مملوك لأهله إلا إذا كان له حائط إلى طريق نافذ فحينئذ يمكن التطرق إليه من حق العامة فيخلص لله تعالى فيصير مسجدا