مسجدکی شرعی حدود کے اندر اورشرعی حدود سے باہر کچھ درخت ہیں، سال بعد ان کو کاٹا جاتاہے ، صفائی کی جاتی ہے ، آیا ان کٹی ہوئی شاخوں کوامام یاکوئی اور شخص اپنے ذاتی استعمال میں لاسکتاہے یانہیں؟اوراگر استعمال کرلی ہوں توان کے تدارک کی کیاصورت ہے؟
درختوں کی کٹی ہوئی شاخوں کواگرآپ كے عرف ميں قیمتی سمجھاجاتاہے توامام مسجد ياكسی اورشخص كے لئے بلامعاوضہ انہیں اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ۔ مسجد کےمتولی یاانتظامیہ کمیٹی پرلازم ہے کہ ان شاخوں کوفروخت کرکے ان کی قیمت مسجد کی ضروریات میں صرف کریں ،اوراگراس سے پہلے کوئی شخص انہیں اپنے ذاتی استعمال میں لاچکاہوتو ان کی قیمت مسجد کےلئے،متولی مسجد یاانتظامیہ کو اداکردے البتہ اگر آپ کے عرف میں ان شاخوں کو قیمتی نہ سمجھاجاتاہویاواقف نے وقف کرتے وقت اس کی وضاحت کردی ہوکہ اسے عوام الناس اپنے ذاتی استعمال میں لاسکتے ہیں تو پھران کا استعمال درست ہے۔
واضح رہے کہ اگرواقف کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی وضاحت کسی کےعلم میں نہ ہوتواس صورت میں بھی اسے بلامعاوضہ ذاتی استعمال میں لاناجائز نہیں۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(4/361)سعيد
قال في الإسعاف ويدخل في وقف الأرض ما فيها من الشجر والبناء دون الزرع والثمرة كما في البيع۔
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم(م: 970هـ)(5/220،221)دارالكتاب الإسلامي
وفي المحيط رجل غرس في المسجد يكون للمسجد لأنه بمنزلة البناء بالمسجد… وما غرس في المساجد من الأشجار المثمرة إن غرس للسبيل وهو الوقف على العامة كان لكل من دخل المسجد من المسلمين أن يأكل منها وإن غرس للمسجد لا يجوز صرفها إلا إلى مصالح المسجد الأهم فالأهم كسائر الوقف وكذا إن لم يعلم غرض الغارس۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(4/433)سعيد
قولهم: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة۔
البحر الرائق،العلامة ابن نجيم المصري(5/270):دارالكتاب الإسلامي
وفي القنية من آخر الوقف بعث شمعا في شهر رمضان إلى مسجد فاحترق وبقي منه ثلثه أو دونه ليس للإمام ولا للمؤذن أن يأخذ بغير إذن الدافع ولو كان العرف في ذلك الموضع أن الإمام والمؤذن يأخذه من غير صريح الإذن في ذلك فله ذلك اهـ۔