مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ولیمہ کا کھانا پکوانے کے لیے اجرت پر بلاتا ہے لیکن اجیر کو کوئی عذر شرعی لاحق ہوجاتا ہے جیسے نکاح ہوتے ہی طلاق ہوگئی یا خلع واقع ہوگیا اب اس عذر کی وجہ سے اجارہ فسخ ہوگیا مگر اجیر دور کی مسافت طے کرکے آیا تھا اجیر کہتا ہے جو کرایہ میرا خرچ ہوا ہے وہ مجھے دو کیا وہ اس کا مطالبہ کر سکتا ہے اور مواجر پر اس کرایہ کے پیسے دینا کیا لازم ہے۔
بدائع الصنائع،العلامة علاءالدين الكاساني(م:587هـ) (6/28)علمیۃ
أن الإجارة تفسخ بالأعذار عندنا خلافا له.(وجه) قوله أن الإجارة أحد نوعي البيع فيكون لازما كالنوع الآخر وهو بيع الأعيان والجامع بينهما أن العقد انعقد باتفاقهما… ولنا أن الحاجة تدعو إلى الفسخ عند العذر؛ لأنه لو لزم العقد عند تحقق العذر؛ للزم صاحب العذر ضرر۔
فقه البيوع ، المفتي محمد تقي العثماني(1/88)مکتبہ معارف القرآن
الوعد یکون ملزما للواعد دیانۃ الالعذر، وھو ملزم قضاء اذا کان معلقا علی سبب، ودخل الموعود فی کلفۃ نتیجۃ الوعد … وانما افتی المجمع بالتعویض عن ضرر الفعلی علی اساس القواعد العامۃ۔