بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مساجد میں افطاری کا اہتمام کروانا

سوال

ایسے لوگوں کی جو مسجد میں عبادت کے لیے موجود نہیں ہیں، بلکہ خاص طور پر ان کو اہتمام کے ساتھ بلا کر مسجد میں کھانے پینے کی ضیافت کرنے کا کیا حکم ہے؟ نیز مساجد میں افطاری کا اہتمام کرنا معتکفین کے لیے اور غیر معتکف جو عبادت کررہا ہے وہ نفلی اعتکاف کی نیت کرلے اسی طرح جو لوگ صرف افطاری کرنے کے لیے مسجد میں آتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟ کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ مسجد نبوی اور مسجد حرام میں اس کا بلا نکیر بہت اہتمام ہوتا ہے، لہٰذا دیگر مساجد میں بھی اس طرح اہتمام جائز ہے۔

جواب

مسجد عبادت کے لیے بنائی گئی ہے اور اس میں عبادت ہی کی نیت سے داخل ہونا چاہیے، مسجد میں ضیافت کے لیے لوگوں کو بلانا اور اسے مطعم بنانا مسجد کے اصل مقصد اور اس کی شان کے خلاف ہونے کی وجہ سے شرعاً ممنوع ہے، ایسے امور سے اجتناب کیا جائے۔ البتہ اگر کوئی شرعی عذر جیسے مسجد کے قریب کوئی اور جگہ نہ ہو اور گھر پر افطاری کی وجہ سے جماعت نکلنے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں عبادت کی نیت سے مسجد میں حاضر ہونے والے لوگوں کے لیے مسجد کے آداب کا خیال رکھتے ہوئے مسجد میں افطاری کرنے کی گنجائش ہے، لیکن داخل ہوتے ہوئے اعتکاف کی نیت کریں اور اولاً کچھ عبادت کرکے پھر کھانے میں مشغول ہوں۔
مسجد نبوی اور مسجد حرام میں بظاہر اس عذر کی بناء پر بلا نکیر افطاری کا اہتمام ہوتا ہے تاکہ جماعت فوت نہ ہو۔
صحيح مسلم بن الحجاج القشیری(261)(1/236) داراحیاء التراث العربی
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تزرموه، دعوه، ‌فتركوه حتى بال، ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعاه، فقال له: إن هذه المساجد لا تصلح لشيء من هذا البول ولا القذر، إنما هي لذكر الله عز وجل والصلاة وقراءة القرآن۔
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (3/ 126) داراحیاء التراث العربی
(فقال له: ‌إن ‌هذه ‌المساجد لا تصلح لشيء من هذا البول، ولا القذر، وإنما هي لذكر الله والصلاة وقراءة القرآن) ؟السابع: فيه دليل على أن المساجد لا يجوز فيها إلا ذكر الله والصلاة وقراءة القرآن بقوله: (وإنما هي لذكر الله) ، من قصر الموصوف على الصفة، ولفظ الذكر عام يتناول قراءة القرآن وقراءة العلم، ووعظ الناس والصلاة أيضا عام، فيتناول المكتوبة والنافلة، ولكن النافلة في المنزل أفضل، ثم غير هذه الأشياء: ككلام الدنيا والضحك واللبث فيه بغير نية الاعتكاف مشتغلا بأمر من أمور الدنيا ينبغي أن لا يباح، وهو قول بعض الشافعية، والصحيح أن الجلوس فيه لعبادة أو قراءة علم أو درس أو سماع موعظة أو انتظار صلاة أو نحو ذلك مستحب، ويثاب على ذلك، وإن لم يكن لشیء من ذلک کان مباحا، وترکہ اولی۔
نيل الأوطار(1/ 62) دار الحدیث ، مصر
قوله: (‌إن ‌هذه ‌المساجد) . . . إلخ مفهوم الحصر مشعر بعدم جواز ما عدا هذه المذكورة من الأقذار، والقذى والبصاق ورفع الصوت والخصومات والبيع والشراء وسائر العقود وإنشاد الضالة، والكلام الذي ليس بذكر، وجميع الأمور التي لا طاعة فيها، وأما التي فيها طاعة كالجلوس في المسجد للاعتكاف والقراءة للعلم وسماع الموعظة وانتظار الصلاة ونحو ذلك، فهذه الأمور وإن لم تدخل في المحصور فيه لكنه أجمع المسلمون على جوازها كما حكاه النووي فيخصص مفهوم الحصر بالأمور التي فيها طاعة لائقة بالمسجد لهذا الإجماع وتبقى الأمور التي لا طاعة ۔
حاشية ابن عابدين  رد المحتار (1/ 661)سعید
(قوله ‌وأكل ‌ونوم إلخ) وإذا أراد ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف، فيدخل ويذكر الله تعالى بقدر ما نوى، أو يصلي ثم يفعل ما شاء فتاوى هندية۔
حاشية ابن عابدين  رد المحتار (2/ 448)
(قوله ‌وخص ‌المعتكف بأكل إلخ) أي في المسجد والباء داخلة على المقصور عليه بمعنى أن المعتكف مقصور على الأكل ونحوه في المسجد لا يحل له في غيره، ولو كانت داخلة على المقصور كما هو المتبادر يرد عليه أن النكاح والرجعة غير مقصورين عليه لعدم كراهتهما لغيره في المسجد.واعلم: أنه كما لا يكره الأكل ونحوه في الاعتكاف الواجب فكذلك في التطوع كما في كراهية جامع الفتاوى ونصه يكره النوم والأكل في المسجد لغير المعتكف وإذا أراد ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف فيدخل فيذكر الله تعالى بقدر ما نوى أو يصلي ثم يفعل ما شاء. اهـ۔
 الفتاوى الهندية(5/ 321)دار الفکر
‌۔ويكره ‌النوم والأكل فيه لغير المعتكف، وإذا أراد أن يفعل ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف فيدخل فيه ويذكر الله تعالى بقدر ما نوى أو يصلي ثم يفعل ما شاء، كذا في السراجية
(امداد الاحکام (۲/۱۰۳) دارالعلوم کراچی، مسائل رفعت قاسمی(۳/۴۷۹) الفالاح)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس