ایک آدمی مرتے وقت وصیت کرتا ہے کہ میری کتب مدرسہ کے لیے وقف ہیں تو کیا اس وصیت میں ان کی وہ کتب بھی شامل ہوں گی جوانہوں نے خود تالیف کی ہیں (جن کےکئی کئی نسخ موجود ہیں جو وہ علماء کرام کو ہدیہ کرتےتھے) یا نہیں ؟
دوسری بات یہ پوچھنی تھی کہ کیا ان کی تالیف کردہ کتب کسی کو دے سکتے ہیں یا فروخت کرسکتے ہیں یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں وصیت ان تمام کتب کو شامل ہوگی جو اس آدمی کی ملکیت میں ہیں۔لہذا اگر کتابیں ثلث مال سے زائد نہیں ہیں تو تمام کی تمام کتب مدرسہ کو دے دی جائیں گی۔ اگر ثلث مال سے زائد ہیں تو ثلث مال کی حد تک تو وقف کردی جائیں گی اور بقیہ ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوں گی ۔
البتہ والد کی وفات کے بعد حقِ طبع ورثاء میں منتقل ہوتاہے اسی لیے اپنے اپنے حصوں میں جس طرح مرضی چاہیں تصرف کرسکتے ہیں۔