بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مردو عورت کے لیے سونا چاندی یا کسی اور دھات کی بنی ہوئی انگوٹھی پہننا کیسا ہے؟

سوال

انگوٹھی بلا ضرورت پہننا کیسا ہے ، اگر اجازت ہے تو چاندی ،لوہے یا کوئی اور دھات کی بنی ہوئی انگوٹھی کو پہننے کا حکم ،انگوٹھی کی مقدار کتنی ہو ،اور یہ مقدار نگینہ کے ساتھ ہے یا اس کے بغیر ،اور اس حکم میں مرد و عورت برابر ہیں یا فرق ہے ۔

جواب

واضح رہےکہ مرد ایک مثقال (ساڑھے چار ماشے ) سے کم صرف چاندی کی ایسی انگوٹھی جو عورتوں کی انگوٹھی کے مشابہ نہ ہو پہن سکتا ہے،اور یہ مقدار نگینہ کےعلاوہ ہے اگر نگینہ چاندی ہی کا ہو تو انگوٹھی اور نگینہ کی مجموعی مقدار ساڑھے چار ماشے سے کم ہونا ضروری ہے تاہم مرد کیلئے بلا ضرورت چاندی کی انگوٹھی پہننے سے بچنا ہی بہتر ہے،اورسونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے ۔ عورت کیلئے سونے اور چاندی کی انگوٹھی بلا قیدِ وزن پہننا جائز ہے، اوردیگر دھاتوں کی انگوٹھی پہننا ناپسندیدہ ہے۔
صحيح البخاري (7/ 156) دار طوق النجاة
عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اتخذ خاتما من ذهب أو فضة، وجعل فصه مما يلي كفه، ونقش فيه: محمد رسول الله، فاتخذ الناس مثله، فلما رآهم قد اتخذوها رمى به وقال: «لا ألبسه أبدا». ثم اتخذ خاتما من فضة، فاتخذ الناس خواتيم الفضة قال ابن عمر: فلبس الخاتم بعد النبي صلى الله عليه وسلم أبو بكر، ثم عمر، ثم عثمان، حتى وقع من عثمان في بئر أريس
صحيح مسلم (3/ 1655) دار إحياء التراث العرب
عن عبد الله بن عباس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى خاتما من ذهب في يد رجل، فنزعه فطرحه، وقال: «يعمد أحدكم إلى جمرة من نار فيجعلها في يده»، فقيل للرجل بعد ما ذهب رسول الله صلى الله عليه وسلم: خذ خاتمك انتفع به، قال: لا والله، لا آخذه أبدا وقد طرحه رسول الله صلى الله عليه وسلم
شرح النووي على مسلم (14/ 32) دار إحياء التراث العربي
وأما خاتم الذهب فهو حرام على الرجل بالإجماع وكذا لو كان بعضه ذهبا وبعضه فضة
الفتاوى الهندية (5/ 335) دار الفكر
ويكره للرجال التختم بما سوى الفضة، كذا في الينابيع. والتختم بالذهب حرام في الصحيح، كذا في الوجيز للكردري. وفي الخجندي التختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء جميعا
الفتاوى الهندية (5/ 335)دار الفكر
ثم الحلقة في الخاتم هي المعتبرة؛ لأن قوام الخاتم بها، ولا معتبر بالفص حتى أنه يجوز أن يكون حجرا أو غيره، كذا في السراج الوهاج. ولا بأس بسد ثقب الفص بمسمار الذهب كذا في الاختبار شرح المختار
فتاوی محمودیہ (341/19)ادارہ الفاروق کراچی و فتاوی رشیدیہ بمع حاشیہ (ص:760)اشاعت اکیڈمی
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس