بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مردوں کا چاندی کی انگوٹھی میں مختلف قسم کے پتھر جڑوا کر پہننا

سوال

مرد کےلیے چاندی کی انگوٹھی میں مختلف پتھر مثلاً یاقوت ، نیلم ، عقیق وغیرہ جڑوا کر پہننا جائز ہےیا نہیں؟ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

مردوں کے لئے چاندی کی انگوٹھی میں مختلف قسم کے پتھر جڑوا کر پہننا جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس انگوٹھی کی مقدار ایک مثقال (یعنی ساڑھے چار ماشہ ) سے کم ہو مذکورہ پتھر وں سےمتعلق عوام میں باطل نظریات رائج ہیں ان سے بہرحا ل اجتناب لازم ہے ۔
فی الھندیۃ (5/413)بیروت
وأما العقيق ففي التختم به اختلاف المشايخ، وصحيح في الذخيرة أنه لا يجوز وقال قاضي خان الأصح أنه يجوز، كذا في السراج الوهاج۔
الدرالمختار(6/360) سعید 
(ولا يتختم) إلا بالفضة لحصول الاستغناء بها فيحرم (بغيرها كحجر۔۔۔ (وذهب وحديد وصفر) والعبرة بالحلقة) من الفضة (لا بالفص) فيجوز من حجر وعقيق وياقوت وغيرها وحل مسمار الذهب في حجر الفص۔
رد المحتار(6/360)رشیدیۃ
أن التختم بالفضة حلال للرجال بالحديث وبالذهب والحديد والصفر حرام عليهم بالحديث وبالحجر حلال على اختيار شمس الأئمة وقاضي خان أخذا من قول الرسول وفعله – صلى الله عليه وسلم – لأن حل العقيق لما ثبت بهما ثبت حل سائر الأحجار، لعدم الفرق بين حجر۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس