میں نےایک دوست محمدشارق صاحب(مرحوم)سےچندماہ قبل ایک لاکھ روپےقرض حسنہ لیاتھا جوکہ30نومبر2013ءکوواپسی کاوعدہ تھا۔محمدشارق صاحب2 ہفتہ قبل فوت ہوگئےہیں۔میں نےمحمدشارق صاحب کو30نومبرکاایک لاکھ کاچیک بھی دیاتھاجوکہ نہ اُن کےبينک میں جمع کرایاگیاہےاورنہ ہی اب اُن کے اکاؤنٹ میں جمع ہوسکتاہے بلکہ میری معلومات کےمطابق یہ چیک اُن کےورثاءکےپاس ہیں۔
محمد شارق صاحب کےورثاء درجہ ذیل ہیں
نمبر ۱۔ایک بیوہ (جس سےکوئی اولاد نہیں)
نمبر ۲۔پانچ سگی بہنیں، بھائی کوئی نہیں
نمبر ۳۔ دو چچازاد بھائی ( چچا اور والدین پہلےفوت ہوچکےہیں)۔ مرحوم کی بیوہ اوربہنوں میں ناچاقی ہے۔
برائے مہربانی مجھے بتائیں کہ اب یہ ایک لاکھ روپےاِن ورثاءمیں سےکس کودیاجائےاور اِن ورثاءمیں سےکس کاکتناحصہ بنتاہےتاکہ میں قرض اداکرکےسرخروہوسکوں۔مزیدیہ کہ اگرورثاءمیراچیک بھی واپس نہ کریں جوکہ وہ کہتےہیں معلوم نہیں چیک کہاں ہےتوکیاپھربھی مجھےقرض کی رقم اُن کواداکردینی چاہئے؟اورجب تک ورثاءسےمیرا رابطہ نہ ہوکیونکہ معلوم ہواہےمحمدشارق صاحب کی بہنیں کسی غیرمردسےملنانہیں چاہتی اور بیوہ عدت میں ہے وہ بھی کسی غیر مرد سے ملنا نہیں چاہتی تو کیا میں یہ رقم ورثاء سے رابطہ نہ ہونے تک اپنی ذات کیلئے استعمال کرسکتا ہوں ؟
محمدشارق صاحب کی بہنیں کہہ رہی ہیں کہ ہماراحصہ جس کمپنی میں ہمارابھائی شارق صاحب کام کرتاتھااس کےمالک لطیف صاحب کودےدیں وہاں سےہمیں بقایا دیگر رقوم کےساتھ یہ حصہ بھی مل جائیگا۔توکیامیں لطیف صاحب کو ان 5بہنوں کےحصےدےدوں اورلطیف صاحب سےتحریرلےلوں؟
آپ کےسوال سےمعلوم ہوتاہےکہ آپ نےمرحوم شارق صاحب کوجو چیک دیاتھا،وہ ابھی تک بنک میں جمع نہیں کرایاگیااوراس کےبدلہ میں بینک سے رقم نہیں نکلوائی گئی(وہ کیش نہیں ہوا ) اس لئے آپ کے ذمہ مرحوم کاقرض بدستورباقی ہےاورآپ پرلازم ہےکہ مرحوم شارق صاحب کاقرض ان کےورثاء کوان کےحصہ میراث کی بقدراداکرلیں،اوراگرمرحوم کےورثاءوہ چیک آپ کونہیں دیتےتوآپ بینک جاکر اسے منسوخ (بلاک ) کروادیں۔مرحوم کےشرعی وارث اگرصرف وہی ہیں جوسوال میں مذکورہیں توپھرقرض کی ادائیگی کاطریقہ یہ ہےکہ ایک لاکھ(100000)روپے کےایک سوبیس(120)حصےکرلیں جن میں سے تیس(30)حصے یعنی پچیس ہزار(25000) روپے ان کی بیوہ کو سولہ، سولہ (16،16) حصے یعنی تیرہ ہزارتین سوتینتیس (13333)روپےہربہن کواورپانچ پانچ(5،5)حصےیعنی چارہزارایک سوسڑ سٹھ (4167) روپےہر چچا زاد بھائی کواداکردیں۔نیزواضح رہےکہ عدت کےدوران مرحوم کی بیوہ کےلئےپردہ کےاہتمام کےساتھ قرض وصول کرنےمیں کوئی حرج نہیں اس لئےاگرہوسکےتوجلدازجلدان کاقرض اداکردیں،ورنہ عدت گزرنےکے فورًا بعد ادا کردیں۔جب مرحوم شارق صاحب کی بہنیں خود کہہ رہی ہیں کہ ہمارا حصہ کمپنی کے مالک لطیف صاحب کو دیدیں تو ایسی صورت میں آپ بہنوں سے احتیاطا تحریرلکھواکر اس کی نقل اپنے پاس بھی رکھیں اور لطیف صاحب کو بھی دیدیں اور لطیف صاحب کو مرحوم کی بہنوں کا حصہ دیکران سے بھی تحریر لکھوادیں، اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ سہولت کےلئے تقسیمِ میراث کانقشہ حسبِ ذیل ہے: