میں اور میری اہلیہ بلوچستان کےایک مدرسہ میں مدرس تھے بندہ دورانِ سال بیمار ہوگیا مہتمم صاحب نے کہا آپ جاؤ ، پنجاب سے علاج کرواؤ،میں نے بتایا کہ میرے پاس تو علاج کے لیے پیسے نہیں ہیں اور میری اہلیہ بھی بیمار تھی تو مہتمم صاحب نے 30000روپے دیے اور گاڑی کر وادی، یہ محرم کا مہینہ تھا لیکن ہمارا ارادہ ماہ صفر میں جانے کا تھا کیونکہ میری اہلیہ حمل سے تھیں یہ بھی پڑھاتی تھی ، ماہ صفر میں بچہ پیداہونا تھا ،تو مہتمم نے کہا اپنا علاج کر وائیں اور ان کو گھر چھوڑوبچہ پیدا ہونے کے بعد لے آنا ،کچھ عرصہ بعدآپریشن کروایا جبکہ چھٹی 15/10دن کی تھی ،اسی اثناء میں اللہ نے بچی عطافرمائی ، تو مہتمم صاحب نے جواب دیا اور یہ تقریباً صفر کا آخری عشرہ چل رہا تھا ،ہم نے عرض بھی کی کہ ہم واپس آنے والے ہیں لیکن وہ نہ مانے اب مہتمم صاحب کا مطالبہ ہے کہ ہمارے 30000واپس کرو اور ہماری طرف سے یہ کہ آپ نے درمیان سال چھٹی کروائی ، جبکہ ایک مدرس بیمار اورمعلمہ کےہاں بچے کی پیدائش کا مسئلہ تھا اس کی شرعاًاور وفاق دونوں کے تحت رخصت ہوتی ہے ، ہم تدریس کے لیے آنے کو تیار ہیں آپ درمیانِ سال میں ایسانہ کریں ،لیکن وہ نہ مانے۔آپ سے درخو ا ست ہے کہ شریعت مطہرہ اور وفاق المدارس کے ضابطے کو سامنے رکھ کر فیصلہ فر مائیں ۔
دینی مدارس کے عرف میں مہتمم اور مدرس کے درمیان طے پانے والا معاملہ مسانہہ (سالانہ)ہوتاہے جس کی وجہ سے کسی معتبر اور معقول وجہ کے بغیر دونوں میں سے کوئی ایک اس معاملہ کو ختم نہیں کر سکتا جب تک کہ دوسرا راضی نہ ہو ،لہذا ذکر کردہ صورتِ حال میں جب آپ نے ایک معقول عذر (بیماری اور آپریشن) کی وجہ سے مہتمم صاحب کی اجازت بلکہ حکم سے مدرسہ سے چھٹیاں کیں اور صحت یاب ہونے کے بعد اب آپ دوبارہ مدرسہ میں حاضر ہوکر اپنی ذمہ داریاں جاری رکھناچاہتے ہیں تو شرعاً مہتمم صاحب پر لازم ہے کہ وہ آپ کو اختتام ِسال تک مدرسہ میں خدمت کا موقع دیں اور سال کے آخر تک آپ کا وظیفہ بھی آپ کو دیتےر ہیں ۔آپ کی رضامندی کے بغیر بلاکسی معقول وجہ کے سال کے درمیان میں آپ کو تدریس سے فارغ کرنا مہتمم صاحب کے لیے جائز نہیں ۔
مہتمم صاحب نے آپ کو جو تیس ہزار روپے عنایت فرمائےتھے اگر آپ نے ان سے قرض نہیں مانگا تھا اور نہ ہی انہوں نے قرض کہہ کر دئیے اور نہ ہی انہوں نے مدرسہ کے ضابطے کے تحت مدرسہ کے فنڈ سے بطور قرض دیئے بلکہ آپ کی مجبوری کے پیش نظر آپ کے مطالبے کے بغیر خود سے دے دئیے تو ایسی صورتِ حال میں وہ رقم شرعاًمہتمم کی جانب سے آپ کو ہدیہ ہے ،ان کی جانب سے واپسی کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے ۔
الدالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م:1088ھ)(4/382)سعید
مطلب: لا يصح عزل صاحب وظيفة بلا جنحة أو عدم أهلية. تنبيه: قال في البحر واستفيد من عدم صحة عزل الناظر بلا جنحة عدمها لصاحب وظيفة في وقف بغير جنحة وعدم أهلية۔
وفیه ایضاً(4/418،419)سعید
ونظم ابن الشحنة الغيبة المسقطة للمعلوم المقتضية للعزل. ومنه: وما ليس بد منه إن لم يزد على… ثلاث شهور فهو يعفى ويغفروقد أطبقوا لا يأخذ السهم مطلقا… لما قد مضى والحكم في الشرع يسفر قلت: وهذا كله في سكان المدرسة۔
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970ھ)(5/380)رشیدیة
لایحل عزل القاضی لصاحب وظیفة بغیرجنحة وعدم اهلیة ولو فعل لم یصح۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين،الشامي(م:1252ھ)(4/419)سعید
أنه لا يسقط معلومه الماضي، ولا يعزل في الآتي إذا كان في المصر مشتغلا بعلم شرعي أو خرج لغير سفر، وأقام دون خمسة عشر يوما بلا عذر على أحد القولين أو خمسة عشر فأكثر، لكن لعذر شرعي كطلب المعاش، ولم يزد على ثلاثة أشهر وأنه يسقط الماضي، ولا يعزل لو خرج مدة سفر ورجع أو سافر لحج ونحوه أو خرج للرستاق لغير عذر ما لم يزد على ثلاثة أشهر، وأنه يسقط الماضي ويعزل لو كان في المصر غير مشتغل بعلم شرعي أو خرج منه وأقام أكثر من ثلاثة أشهر، ولو لعذر… قال الطرسوسي: ومقتضاه أن المدرس ونحوه إذا أصابه عذر من مرض أو حج بحيث لا يمكنه المباشرة لا يستحق المعلوم۔
وفیه ایضاً(5/688)سعيد
وفي خزانة الفتاوى: إذا دفع لابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك بيري، قلت: فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك كمن دفع لفقير شيئا وقبضه، ولم يتلفظ واحد منهما بشيء، وكذا يقع في الهداية ونحوها فاحفظه۔