بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مدرسہ کے محافظ اور نگران کے پاس مدرسہ کی اشیاء ضائع ہونے پر ضمان

سوال

مدرسہ کی ضروریات کےلئےمختلف اوقات میں مختلف اشیاء خریدی جاتی ہیں جو محض مدرسہ کےذاتی استعمال میں ہی لائی جاتی ہیں۔بعد ازاں مختلف کارکنانِ مدرسہ کےحوالےکرکےانہیں اس کا امین ومحافظ بنادیاجاتاہے اگر کوئی چیز اس امین ومحافظ کارکن سےہلاک ہوجاتی ہےیا چوری ہوجاتی ہےتواس کا ضمان کس پرہوگا؟

جواب

مذکورہ بالاصورت میں مجلسِ منتظمہ اور محافظ کارکن دونوں امین ہیں اورامین پر تعدی اورحفاظت میں کوتاہی کےبغیرضمان لازم نہیں ہوتا۔ البتہ اگر اس محافظ وامین کارکن کی جانب سےغفلت اورحفاظت میں کوتاہی پائی گئی ہو تووہ بہرحال ضامن ہوگا۔
:شرح المجلۃ، سلیم رستم بازاللبنانی(1/433) المکتبۃ الحقانیة
یلزم حفظ الودیعة فی حرزمثلها،فوضع مثل النقود والجوهرات فی اصطبل الدواب أو التبن تقصیر فی الحفظ،وبخذه الحال إذا ضاعت الودیعة أوهلکت لزم الضمان… الودیعة أمانة فی ید المودع فإذا أهلکت بلا تعد منه وبدون صنعه وتقصیره فی الحفظ لایضمن۔
:الدر المختار ،علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ) (1/553 )دار الكتب العلمية
وكذا لو خلطها المودع بجنسها أو بغيره بماله أو مال آخر… بغير إذن المالك بحيث لا تتميز إلا بكلفة…بحيث لا تتميز إلا بكلفة بحيث لا تتميز إلا بكلفة۔
:رد المحتار ،ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ) (5/664)سعيد
وللمودع حفظها بنفسه وعياله… وشرط كونه) أي من في عياله (أمينا) فلو علم خيانته ضمن۔
:فتاوی قاضی خان علی ھامش الفتاوی الھند یۃ(3/377 )رشيدیة
مودع قال:وضعت الودیعة بین یدی ثم قمت،فنسیتها فضاعت کان ضامناً۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس