بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مدرسہ کےلئے زمین کی خریداری میں زکوٰۃ دینے کےلئےتملیک کی شرط

سوال

میں اپنا فریضہ مال(زکوٰۃ) ایک مدرسہ کی بلڈنگ کی خریداری اور تعمیر میں دینا چاہتاہوں، جبکہ میں نے سنا ہے کہ زکوٰۃ کے مال کو خریداری اور تعمیر میں استعمال نہیں کرسکتے۔ بلکہ کسی مستحق کو مالک بنانا یعنی فریضہ کی ادئیگی کی تکمیل کے لئے تملیک ضروری ہے اور اس طرح تعمیر، خریداری عمارت میں تملک سمجھ نہیں آتی ، پھر بھی اگر دینا چاہیں تو اس کی کیا جائز صورت ہوگی؟ قرآن وحدیث اور فقہ حنفیہ کی تعلیمات کی روشنی میں بندہ یہ معلوم کرنا اور سمجھنا چاہتا ہے کہ ہمارےہندو پاک کے بڑے دینی اداروں وجامعات دار العلوم دیوبند، مظاہر العلوم، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن، دار العلوم کراچی کے نظام میں زکوٰۃ کے استعمال کا کیا طریقہ ہے۔ بندہ یہ بھی دیکھتاہے کہ مدارس کے اعلانات واشتہارا ت میں اسی طرح لکھا ہوتاہے۔

جواب

زکوٰۃ کی رقم کسی غریب مستحقِ زکوٰۃ کو مالک بنا کر دینا ضروری ہے اس کے بغیر زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، مدرسہ کی تعمیر اور بلڈنگ کی خریداری کے لیے براہ راست زکوٰۃ کا مال خرچ کرنا جائز نہیں کیونکہ زکوٰۃ میں تملیک شرط ہے لہذا اس کا شرعی اور درست طریقہ کار یہ ہے کہ مستحق طلباء سے زکوٰۃ وصول کرنے اور ان کی طرف سے اس رقم کو خرچ کرنے کی وکالت لے لی جائے یا کسی فقیر سے کہا جائے کہ آپ اپنے طور پر کسی سے قرض لے کرمدرسہ کو دے دیں،قرض کی ادائیگی کا انتظام اللہ کرادیں گے، اور بعد میں زکوٰۃ کے پیسوں سے اس کے قرض کی ادائیگی کروا دی جائے۔
مدارس کےلئے زکوٰۃ کی تملیک کا وکالت نامہ بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں
وکالت نامہ برائے غیر مستطیع (امدادی) بالغ طلبہ
میں فلاں ۔۔۔۔بن ۔۔۔ سکونت۔۔۔صدقِ دل سے اقرار کرتاہوں کہ میں مسلمان عاقل وبالغ اور مستحقِ زکوۃ ہوں، سید یعنی ہاشمی نہیں ہوں، میں شوال ۔۔۔۔14ھ تا آخر شوال ۔۔۔14ھ تک کےلئے مہتمم ،نائب مہتمم جامعہ ہذا اوران کے مجازنمائندہ کو وکیل بناتاہوں کہ وہ میرے لئے زکوٰۃو صدقات کی رقوم یا اشیاء وصول کریں۔ نیز مہتمم ونائب مہتمم جامعہ کو اس امر کا بھی وکیل بناتا ہوں کہ وہ میری طرف سےاسے میری اور دیگر طلبہ کی ضروریات (قیام،طعام، تعلیم وغیرہ میں اور بوقتِ ضرورت ادارے کی دیگر ضروریات ومصالح میں )خود یا اپنے کسی مجاز نمائندے کے ذریعے حسبِ صوابدید خرچ کریں یا ادارہ ہذا(۔۔۔۔۔۔۔)کی ملکیت میں دے دیں یا اس پر وقف کردیں۔
قال الله تعالى:[التوبة: 60]
{إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حكيم}
الفتاوى الهندية (1/ 188) دار الفكر
ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين، ولا يشترى بها عبد يعتق، ولا يدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي
الدر المختار (2/ 344) دار الفكر-بيروت
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس