ہمارےہاں مدرسہ میں نظافت کےپیش نظراردگردطلباءکےبکھرےکپڑوں کوجمع کرنےکے لئےایک کارٹن/ڈبہ رکھاجاتاہے،چنانچہ اردگردپڑےکپڑوں کواُسی کارٹن/ڈبہ میں ڈال دیاجاتاہےبعدازاں جب وہ ڈبہ بھرجاتاہےتوطلباءسےکہاجاتاہےکہ اپنےاپنےکپڑےاٹھالیں مگرباوجودمکرر سہ کررکھنےکےطلباءاس ڈبہ میں سےکپڑےنہیں اٹھاتےجبکہ یہ بات یقینی ہےکہ وہ کپڑےطلباءمیں سےہی چندطالب علموں کےہوتے ہیں۔منتظم کوایسے کپڑوں کےسنبھالنے/دھلوانےکےخرچہ سمیت دیگربہت سےامورمیں دقت پیش آتی ہے۔ اب ایسےکپڑوں کاشرعاًکیاحکم ہے؟ان کامصرف کیاہے؟منتظم پراس حوالےسے کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
صورت ِ مسئولہ میں ایسے کپڑے جو پھٹےپرانےہوں اوران کےبا رےمیں غالب گمان یہ ہوکہ مالک نےان کوبےکارسمجھ کرپھینک دیاہےغلطی سےاس سےنہیں رہےتوایسے کپڑوں کااستعمال سب کیلئےمباح ہے، ان کوکسی بھی استعمال میں لایاجاسکتاہے۔البتہ ایسےکپڑےجواچھی حالت میں ہوں اوران کےبارےمیں غالب گمان یہ نہیں کہ ان کو مالک نےمباح کرکےپھینک دیاہےتوایسے کپڑےلقطہ کےحکم میں ہیں،ان کے بارے میں اعلان کرتے رہیں جب غالب گمان ہوجائے کہ اب ان کو لینے والا کوئی نہیں آئے گا ۔ تو اب ان کو کسی مستحق شخص پر صدقہ کردیاجائے ۔