جامعہ رقیہ للبنات اور ابراہیم اکیڈمی کے تحت مختلف دینی خدمات جاری وساری ہیں ۔اس شعبہ میں الحمداللہ ہماری لاہور میں 4برانچیں ہیں ۔اور اس کے علاوہ ایک اور برانچ آن لائن ہے ،جس کے زریعے پوری دنیا سے لوگ اپنی علمی واصلاحی ضروریات پوری کرسکتے ہیں ۔ادارے میں مختلف خدمات پر مقرر اساتذہ و دیگر عملہ (تقریبا35 افراد) پر مشتمل ہے۔ جن کے ماہانہ وظائف و دیگر ضروریات کی ادائیگی ادارہ کے ذمہ ہے۔اور ادارے میں تعلیم و تعلم کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس ،سنن مبارکہ پر مشتمل کتاب ’’گلدستہ سنت‘‘ کی اشاعت،طالبات كے لئے ٹرانسپورٹ ، یوٹیلٹی بلز،اوردیگر خدمات شامل ہیں۔ آ یا ان کاموں کے لئے ہم زکوۃ وصدقات لے سکتے ہیں یا نہیں؟
سوال کے جواب سے پہلے بطورِ تمہیدکچھ باتیں پیشِ نظررکھناضروری ہيں تاکہ شرعی ذمہ داری پوری ہوسکے۔ مدارس وغیرہ کا معاملہ چونکہ امانت کا ہے، اس لئے اس کے چلانے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے،ورنہ باعثِ اجر ہونے کے بجائے الٹا باعثِ وبال ہونے کا اندیشہ ہے،لہٰذا ادارہ چلانے میں مندرجہ ذیل امور کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔
نمبر1:۔زکٰوۃ و صدقاتِ واجبہ کی رقوم کو امانت داری کے ساتھ حقیقی مستحقین زکوٰۃ تک پہنچانے کا پورا اہتمام کرنا چاہئے۔
نمبر2:۔ ادارہ،ٹرسٹ وغیرہ کے قیام کا مقصد غرباء و فقراء کی امداد کے ذریعہ دین کی خدمت کرنا پیشِ نظر ہونی چاہئے،اپنے لئے مالی منفعت اور روز گار مقصود نہ ہو۔
نمبر3:۔باقاعدہ حساب کتاب رکھا جائے اور وقتاًفوقتاً ضابطہ کے مطابق اس کا آڈٹ کرایا جائے تا کہ مالی بے ضابطگیوں سے بچا جا سکے، نیز علماء سے رجوع کیا جائے تاکہ ان کی شرعی راہ نمائی سےفائدہ اٹھایا جا سکےاور ایک ذمہ دار عالم کو دینی معاملات کی نگرانی کے لئے باقاعدہ طور پر متعین کیا جائے۔
نمبر4:۔جو رقم جس مد کے لئے دی گئی ہو اس کو اسی مد میں خرچ کرنے کا اہتمام کیا جائے ،نیز ان رقوم کو خلافِ شرع امور اور اسراف پر مبنی تقریبات پر خرچ نہ کیا جائے،اسی طرح کسی چیز کو اپنے ذاتی و نجی استعمال میں لانےسے بھی مکمل پرہیز کیا جائے ۔
نمبر5:۔زکٰوۃ کا اصل مصرف فقراء و مساکین ہیں،انہی کو زکٰوۃ کی رقم کا مالک و قابض بنانا زکٰوۃ کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے،اس کے بغیر شرعاً زکٰوۃ ادا نہیں ہوتی،لہٰذا جن جن صورتوں میں زکٰوۃ کی رقم کسی غریب،مسکین کو مالک و قابض بنائے بغیر یا فقراء کا وکیل بنے بغیرانتظامی امور میں زکٰوۃ کی رقم استعمال کی جائیگی تو شرعاَ زکٰوۃ کی ادئیگی نہیں ہو گی۔
نمبر6:۔اسٹاف وغیرہ کی تنخواہوں،تعمیراتی کاموں مثلاہسپتال،اسکول یا دینی مدارس کی تعمیر،گاڑیوں کی خریداری و تقریبات وغیرہ انتظامی امور میں فقراء کا وکیل بنے بغیر زکٰوۃ کی رقم خرچ کرنا جائز نہیں ،بلکہ اس صورت میں یہ سب کام عطیات اور نفلی صدقات کی رقوم سے انجام دینا لازم ہے۔
نمبر7:۔صرف مستحقِ زکٰوۃ کو زکٰوۃ دینا شرعاًجائز ہے۔
نمبر8:۔جوبچےنابالغ ہوں توان کے مستحقِ زکوٰۃ بننے کے لئے ضروری ہے کہ وہ خودمستحقِ زکوٰۃ ہوں اور ان کے والدیاایساولی جس پر ان کی کفالت ہو وہ بھی مستحقِ زکوٰۃ ہوں،لہذاجوبچےمستحقِ زکوٰۃ نہ ہوں یاان کاوالدمستحقِ زکوٰۃ نہ ہو،توایسےبچوں کوزکوٰۃ دینا جائز نہ ہوگا۔
اس تفصیل کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ سوال میں مذکور مقاصد میں عطیات اور صدقاتِ نافلہ توخرچ کرسکتےہیں،لیکن زکوٰۃ کامعاملہ بڑاحساس ہے اور اس کی ادائیگی کے لئے بڑی کڑی شرائط ہیں لہذا زکوٰۃ کے مال کو ذکرکردہ مقاصد میں خرچ کرنے سے حتی الامکان پرہیزکرناچاہئے۔البتہ شديد مجبوری كی صورت میں مذکورہ اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے زكوةوصول كرنے كی گنجائش ہےلیکن واضح رہے کہ زکوٰۃ کی رقم کو براہِ راست سوال میں ذکرکردہ مصارف میں خرچ کرنا جائز نہیں بلکہ اس کے لئے تملیکِ فقیر ضروری ہے اور تملیکِ زکوٰۃ کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی مستحقِ زکوٰۃ شخص کوکہاجائے کہ وہ مدرسہ کواتنی رقم عطیہ کرے! چنانچہ وہ کسی سے قرض لے کر مدرسہ کوعطیہ کردے پھر مالِ زکوٰۃ کے ذریعہ قرض کی ادائیگی میں اس کی معاونت کردی جائے۔اور اس عمل کو معطی کے علم میں بھی لا یا جائے۔
قال الله تبارك وتعالى[النساء: 58]
{ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا }
[الأنفال : 27]
{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ}
الدرالمختار،علاء الدين محمد بن علي الحصكفي(م:1088ھ) (2/344)سعید
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (م:سجد
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(2/337)سعید
مطلب في بيان بيوت المال ومصارفها (قوله: بيوت المال أربعة… أن يجعل لكل نوع بيتا يخصه وله أن يستقرض من أحدها ليصرفه للآخر ويعطي بقدر الحاجة. وقال الشرنبلالي في رسالته:… ولا يختلط بعضه ببعض، وأنه إذا احتاج إلى مصرف خزانة وليس فيها ما يفي به يستقرض من خزانة غيرها، ثم إذا حصل للتي استقرض لها مال يرد إلى المستقرض منها
تحفة الفقهاء،محمدبن أحمد،(م: 540هـ)(1/307)دارالكتب العلمية
وأما إذا قضى دين حي فقير فإذا قضى بغير أمره يكون متبرعا ولا يقع عن الزكاة وإن قضى بأمره فإنه يقع عن الزكاة ويصير وكيلا في قبض الصدقة عن الفقير والصرف إلى قضاء دينه فقد وجد التمليك من الفقير فيجوز
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970هـ)(5/259)دارالكتاب الإسلامي
أن القيم ليس له إقراض مال المسجد قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به وفي العدة يسع المتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز