بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مختلف کرنسیوں کا تبادلہ کرنا

سوال

سود کی تعریف جو علماء بیان کرتے ہیں کہ پیسے پر پیسہ لیا جائے اور اس پر کچھ زائد لیا جائے تو زائد جو لیا گیا ہے وہ سود ہے اور ساتھ ہی یہ حکم واضح ہے کہ جنس کی تبدیلی سے حکم بدل جاتا ہے۔مسئلہ یہ درپیش ہے کہ بیرون ملک کی کرنسی کا لین دین پاکستانی کرنسی سے کیا جاتا ہے تو آیا آج پاکستانی کرنسی کاریٹ کچھ اور ہے اور بیرونی کرنسی کا کچھ اور ،آپ اپنی بیرونی کرنسی کے عوض پاکستانی کرنسی کو انویسمنٹ کرتے ہیں اور وہ زائد رقم لے کر واپس آتی ہے حالانکہ تبدیلی کرنسی کے بدلے میں کرنسی تبدیل ہوئی ہے وہ زائد رقم آیا سود کے زمرے میں آئے گی یا نہیں ؟

جواب

دو مختلف ملکوں کی کرنسیوں کو شرعا  الگ  الگ جنس شمار کیا جاتا ہے اس لئے جب دو مختلف ملکوں کی کرنسی کا آپس میں تبادلہ ہو تو تفاضل(کمی،پیشی)جائز ہے اور یہ سود کے زمرے میں  نہیں آتا ،البتہ بوقت تبادلہ بدلین(کرنسیوں)میں کسی ایک پر قبضہ ضروری ہے ۔نیز حکومت کی جانب سے کرنسیوں کے مقرر کیے گئے ریٹ (قیمت)سے زیادہ کے ساتھ تبادلہ کرنااگرچہ شرعی طور پر اس میں کوئی قباحت نہیں تاہم ملکی قوانین اور اپنے امیر کی اطاعت کے خلاف ہونے کی وجہ سے نامناسب ہے۔
ملحوظہ:واضح رہے کے سود کی تعریف علماء نے یہ کی ہے کہ”پیسوں کی متعین مقدار خاص مدت کے لیے ادھار دے کر واپس لیتے وقت متعین شرح کے ساتھ نفع یا زیادتی کا مطالبہ کرنا”۔لفظ ربا اور سود میں فرق ہے،ربوااپنے اندر وسیع مفہوم رکھنے کے ساتھ ساتھ بہت سی صورتوں کو شامل ہے ،اگرچہ عرف عام میں ربوا کا ترجمہ سود کے ساتھ کیا جاتا ہے یہ اردو کی تنگ دامن گیری ہے کہ اس کا ترجمہ خاص لفظوں کے ساتھ وضع نہیں ہوا۔(ماخذہ:مسئلہ سود،حظرت مفتی اعظم مفتی محمد شفیع عثمانی صاحبؒ)
بحوث في قضايافقهية معاصرة،محمد تقي العثماني(1/169)دار العلوم الکراتشی
فتبين أن عملات الدول المختلفة أجناس مختلفة، ولذلك تختلف أسماؤها وموازينها ووحداتها المنشعبة منها. ولما كانت عملات الدول أجناسا مختلفة جاز بيعها بالتفاضل بالإجماع…. والجواب عندي أن البيع بخلاف هذا السعر الرسمي لا يعتبر ربا ،لما قدمنا من أنها أجناس مختلفة،ولا خلاف في جواز التفاضل عند اختلاف الجنسين،وليس للفضل الجائز حد مقرر شرعا….وإما لأن كل من يسكن دولة،فإنه يلتزم قولا أو عملا،أنه يتبع قوانينها،وحيئنذ يجب عليه اتباع أحكامها ما دامت تلك القوانين لا تجبره علي معصية دينية۔نعم لا يقال فه ذلك إنه تعامل ربوي۔
تکملۃ فتح الملھم،محمد تقی العثمانی(1/372)دارالعلوم الکراتشی
وأما العملۃ الأجنبیۃ من الأوراق فھي جنس آخر، فیجوز بالتفاضل، فیجوز بیع ثلاث ربیات باکستانیۃ بریال واحد سعودي۔
                        الهداية،برھان الدین المرغینانی(م:593ھ)(3/ 83)مکتبۃ الحرمین
قال: “وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء” لعدم العلة المحرمة۔
                        رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م؛1252ھ)(5/ 180)ایچ۔ایم۔سعید
سئل الحانوتي عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة. فأجاب: بأنه يجوز إذا قبض أحد البدلين۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس