سوال نمبر ۱۔ ایک آدمی اگر قمیص شلوار الگ الگ رنگ کی بنواکر پہنے (قمیص کا رنگ اور شلوار کا رنگ اور)تو شریعت میں اس کا کیا حکم ہے ۔ سوال نمبر ۲۔ پاکستان میں صلحا کرام کا لباس کیسا ہونا چاہیے ۔
جواب نمبر ۱۔ مختلف رنگوں کی شلوارقمیص پہننے میں اگرایسےمخصوص رنگوں کا انتخاب کیاجائےجو فسَّاق وفجارکاشعارہوں یاان میں عورتوں سےمشابہت پائی جاتی ہوتویہ عمل جائزنہیں ہےاس سےاجتناب کیا جائےالبتہ اگراس طرح کی کوئی خرابی نہ ہوتوشلوارقمیص مختلف رنگوں کی پہننےکی گنجائش ہےمثلاسفیدرنگ کی شلوار کالے رنگ کی قمیص لیکن مقتداصلحااوردین کاعلم حاصل کرنےوالوں کواس میں خاص احتیاط کرنی چاہیئے۔تتبعِ روایات سےیہ بات واضح ہوتی ہےکہ لباس میں اصولی طورپرچندچیزیں ممنوع ہیں
نمبر ۱۔مردوں کوعورتوں اورعورتوں کو مردوں کی وضع کا لباس پہننا۔
نمبر ۲۔وضع قطع اور لباس کی تراش،خراش میں فاسقوں اوربدکاروں کی مشابہت کرنا۔
نمبر ۳۔فخرومباہات کےاندازکا لباس پہننا۔
نمبر ۴۔ایسالباس پہنناجولباس کےبنیادی مقصدسترِعورت کوصحیح طرح پورا نہ کرتا ہو۔
جواب نمبر ۲۔ واضح رہے کہ نصفِ ساق تک کُرتا حدیث شریف سےثابت ہےاوراس کوصالحین نے اختیار کیاہےاورحدیث میں جس قمیص کوپسند یدہ قراردیاگیاہے،مروجہ بہت چھوٹی شرٹ کےطرز کی انگریزی قمیص اس میں شامل نہیں۔لباس میں مذکورہ تمام شرائط کی رعایت ضروری ہےاوران کی رعایت کےساتھ ساتھ جولباس سنت سےثابت ہےاورجس طرح کالباس آج کل اکثرصلحااستعمال کرتےہیں وہی لباس ہمارےلئےصلحا کا لباس ہوگا۔