بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مختلف تنظیمات کی جانب سے مختلف مالیت کی رسیدیں بنانا

سوال

مختلف تنظیموں کی جانب سے چندے کی رسیدوں کی کاپیاں جاری کی جاتی ہیں ۔جن میں ہر رسید مختلف مالیت کی ہوتی ہے اور وہ رسید اسی مالیت کے نوٹ پر چھاپی جاتی ہے۔جب یہ رسید کی کاپی کسی کارکن یا معطی معاون کو دی جاتی ہے چندے کے لیے تو وہ پابند ہوتا ہے جتنی مالیت کی رسید ہے اتنی رقم ہی کی رسید کاٹے ۔اب اگر رسید پانچ سو روپے کی مالیت کی ہے تو کوئی شخص تین سو روپے چندہ دیتا ہے تو اس کو مزید دو سو روپے کو چندہ دینے کا کہا جاتا ہے ،اب مزید دوسو جو لیا جاتا ہے اس میں اکثر دینے والے کی طیبِ خاطر نہیں ہوتی ۔ تو کیا اس طرح متعین مالیت کی رسیدیں بناکر چندہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟ نیز رسید پر قائد اعظم کی تصویر بھی پرنٹ ہے اس کا بھی حکم شرعی بتلا دیں ۔

جواب

کسی تنظیم کی جانب مختلف مالیت کی رسیدیں بنانے میں کوئی حرج نہیں ۔یہ طریقہ لوگوں کو چندے کی طرف متوجہ کرنے اور ان کی سہولت کی خاطر ہوتا ہے ۔البتہ جو رسیدیں جتنی مالیت کی ہیں چندہ دینے والے سے اتنی ہی مالیت وصول کرنا اس کو دلی رضامندی کے بغیر اتنی ہی رقم دینی پڑ جائے تو یہ جبر ہے جو شرعاً ناجائز اور حرام ہے ،نیز ایسی رسیدوں پر جو تصویریں چھاپی گئی ہیں وہ بلا ضرورت ہیں اس لیے جائز نہیں ،لہذا تصویر کے بغیر رسیدیں جاری کرنی چاہئیں۔
:شعب الإيمان (7/ 346)
 عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه “۔
:مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 1974)
(” لا يحل مال امرئ “) أي: مسلم أو ذمي (” إلا بطيب نفس “) أي: بأمر أو رضا منه. رواه البيهقي في ” شعب الإيمان “، والدارقطني في ” المجتبي۔
:مجلة الأحكام العدلية (27)
(الْمَادَّةُ 97) : لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَأْخُذَ مَالَ أَحَدٍ بِلَا سَبَبٍ شَرْعِيٍّ
:البناية شرح الهداية (8/ 258)
لا جبر في التبرع۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس