بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مختلف اوقات میں تین طلاقیں دینے کا حکم

سوال

ہم دونوں میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا اور میں اقرارکرتی ہوں کہ میرے اندر بہت غصہ ہے اور اسی غصے کی بنا پر میں نے خود اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا اور بار بار کیا جس پر میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی اور میں اپنی امی کے گھر آگئی دوسرے دن خود مجھےاحساس ہوا اور میرے شوہر نے قریبی مسجد کے امام صاحب سے اس بات کا ذکر کیا انہوں نے کہا کہ آپ دوبارہ رجوع کر سکتے ہیں جس پر ہم نے اللہ سے توبہ بھی کی کہ آئندہ نہ وہ مجھ سے ایسے الفاظ کہیں گے اور نہ میں مطالبہ کروں گی اور انہوں نےمجھے یہ بھی بتایا کہ قاری صاحب نے کہا ہے کہ آئندہ اگر دو سال یا جتنی بھی مدت کے بعد آپ یہ الفاظ استعمال کرو گے تو وہ دوسری شمار ہوگی اور پھر دو ہو یا تین بار بات ایک ہی ہوتی ہے میں نے بھی دل میں اللہ سے معافی مانگی اور اس کے بعد ہم ٹھیک طریقے سے رہنا شروع ہو گئے اس کے بعد میں حاملہ ہوگئی اور یہ سارا واقعہ 24 اپریل 2013 کا ہے۔اس کے ٹھیک ایک ماہ اورتین دن بعد یعنی 27 مئی 2013 کو چھوٹی سی بات پر ہمارا شدید جھگڑا ہوا لیکن میں نہ چاہتی تھی کہ وہ مجھ سے پھر ایسے الفاظ کہیں میں نے اپنے ابوکو گھر سے بلوایا اور پھر اچانک میرے شوہر نے میرےوالد کے سامنے پھر طلاق کے الفاظ کہے جس کی مجھے توقع نہیں تھی اور چونکہ میرے شوہر نے  مجھے بتایا تھا کہ دو مرتبہ طلاق دینے  سے  رجوع نہیں ہو سکتا اور تیسری مرتبہ سےبھی نہیں ۔  میں غصے میں اٹھی اور الماری سے اپنے کپڑے نکالنےشروع کر دیئے اور پھر کمرے سے باہر آکر اپنے شوہرسے مطالبہ کیا کہ دو مرتبہ تو کہہ دیا ہے تیسری مرتبہ ہے بھی کہہ دو تو انہوں نے مجھے تیسری مرتبہ بھی وہ الفاظ کہہ دیے ۔اب میں اور میرا شوہر جن کو اس واقعہ کے تیسرے روز بعد روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک جانا تھا۔ اب وہ اپنے اس سرکردہ گناہ پر سخت ندامت ہے اوراس سے زیادہ اس خدا کی ذات سے اور اس غلطی کے ازالےکے لیے ہمیں کیا کرنا ہوگا؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعتاً درست ہے اور آپ کے شوہر نے آپ کو تین طلاقیں دی ہیں تو ایسی صورت میں آپ پر تینوں طلا قیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے۔ اب رجوع نہیں ہو سکتا اور نہ ہی شرعی حلالہ کے بغیر دوبارہ آپس میں نکاح ہو سکتا ہے۔ حلالہ کا طریقہ یہ ہے کہ عدت گزرنے کے بعد آپ کسی دوسرے مرد سے شادی کریں ہمبستری کرنے کے بعد وہ اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہو جائے تو دوسرے شوہر کی عدت گزر جانے کے بعد اب آپ نئے مہر کے عوض شرعی گواہوں کی موجودگی میں پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہیں۔
صحيح البخاري،محمد بن اسماعیل(م:256ھ)(2/791)قدیمی کتب خانہ
عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»۔
الفتاوى الهندية،لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدین البلخی(1/ 473)رشیدیۃ
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها۔
 الهداية،أبو الحسن برهان الدين (م: 593ه) (2/ 409)حبیبیۃ رشیدیۃ
” وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها ” والأصل فيه۔
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري،ابو بکر بن علی(م:800ھ)(2/ 203)رشیدیۃ
(قوله وإذا كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو اثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها) المراد بالدخول الوطء حقيقة وثبت شرط الوطء بإشارة النص وهو أن يحمل النكاح على الوطء حملا للكلام على الإفادة دون الإعادة إذ العقد قد استفيد بإطلاق اسم الزوج أو يزاد على النص بالحديث المشهور وهو قوله – عليه السلام – لا تحل للأول حتى تذوق عسيلة الآخر۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس