میں نے اپنی بیوی کو تقریبا سات آٹھ ماہ پہلے ایک طلاق دی تھی اور رجوع کرلیا اس کے بعد پھر کسی بات پر جھگڑا ہو گیا میں نے پھر ایک طلاق رجعی دی پھر صلح ہوگئی تین چار دن کے اندر میں نے رجوع کیا، اس کے تقریبا پانچ ماہ بعد پھر میری لڑائی ہوئی تو میں طلاق دینے کی نیت سے اسٹام نویس کے پاس گیا اور اس سے طلاق نامہ پر ایک طلاق لکھوائی ۔ اب آیا یہ اسٹام پیپر والی طلاق طلاق رجعی شمار ہوگی اور سابقہ دو طلاقیں -جن کے بعد میں رجوع کر چکاہوں- کالعدم ہونگی یا یہ طلاق ان کے ساتھ محسوب ہوکر تین طلاقیں ہو جائیں گی، راه نمائی فرمائیں۔
سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق جب آپ نے مختلف اوقات میں ایک ایک کرکے زبانی دوطلاقیں دینے کے بعد رجوع کیا اور پھر پانچ ماہ کے بعد تیسری مرتبہ اسٹام پیپر پر طلاق لکھوائی توایسی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہےاورنکاح ختم ہوگیاہے۔ اب موجودہ صورتِ حال میں آپ دونوں ایک دوسرے کے لئے اجنبی بن چکے ہیں، لہٰذاآپ کے لئے ایک ساتھ رہناجائزنہیں ، نہ تو آپس میں رجوع کرسکتے ہیں اور نہ ہی نیانکاح کرکے اکٹھے رہ سکتے ہیں، البتہ اگر عورت عدتِ طلاق گزارنے کے بعد کسی دوسرےشخص سے نکاح کرے اورہمبستری بھی ہوجائے پھردوسرے شوہرکاانتقال ہوجائے یا وہ کسی وجہ سے اسے طلاق دے دے تو عدت گزرنے کے بعدآپ اس عورت کے ساتھ اس کی رضامندی سے شادی کرسکتےہیں۔
أحكام القرآن،أحمد بن علي الجصاص(م:370ھ)(2 / 83)دارإحياء التراث
قوله تعالى فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور۔
الفتاوى الهندية(1 / 379)دارالفكر
رجل استكتب من رجل آخر إلى امرأته كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه وطواه وختم وكتب في عنوانه وبعث به إلى امرأته فأتاها الكتاب وأقر الزوج أنه كتابه فإن الطلاق يقع عليها۔