بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مجنونہ اور معتوہہ سے نکاح کا حکم

سوال

ایک شخص مجنونہ یا معتوہہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے اور فریقین کے گھر والے بھی رضامند ہیں،آیا ان کا نکاح درست ہے یا نہیں ؟

جواب

اگر کوئی مجنونہ لڑکی اپنا نکاح خود کرلے تو اس کا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوگا ،کیونکہ اس میں نکاح کی اہلیت ہی نہیں ،البتہ ولی اس کا نکاح کرا دے تو درست ہو جائے گا ،نیز معتوہہ لڑکی پر جب بیماری کا غلبہ ہو تو اس کا خود نکاح کرنا درست نہیں ،اگر ٹھیک ہو تو نکاح درست ہو جائے گا اور اگر ولی مذکورہ عورت سے اس کی صحت کی حالت میں اس سے اجازت لے اور بعد میں نکاح کرائے تو وہ نکاح بھی معتبر ہے۔
:بدائع الصنائع (2/ 232)علمية
أماشرط الانعقاد فنوعان:.نوع يرجع إلى العاقد، ونوع يرجع إلى مكان العقد بالفعل، فلا ينعقد نكاح المجنون والصبي الذي لا يعقل؛ لأن العقل من شرائط أهلية التصرف۔
:بدائع الصنائع (2/ 241)
وأما ولاية الحتم والإيجاب والاستبداد فشرط ثبوتها على أصل أصحابنا كون المولى عليه صغيرا أو صغيرة أو مجنونا كبيرا أو مجنونة كبيرة۔
:رد المحتار (3/ 243)دار الفكر
وأحسن الأقوال في الفرق بينهما أن المعتوه هو القليل الفهم المختلط الكلام الفاسد التدبير، لكن لا يضرب ولا يشتم بخلاف المجنون اهـ۔۔۔بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل۔۔۔ وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس