بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

متولی مسجد کے ورثاء کی اجازت کے بغیرمسجد میں توسیع کا حکم

سوال

متولی مسجد کا انتقال ہوچکاہے، جبکہ متولی مسجد کی اولاد زندہ ہے اور مسجد میں توسیع کی ضرورت ہے، تو کیا مسجد کی انتظامیہ اولاد ِ متولی کی موجود گی میں تو سیعِ مسجد کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں؟

جواب

مسجد میں توسیع

اہل محلہ اور مسجد کی انتظامیہ کو ضرورت کے وقت مسجد میں توسیع کرنے کا اختیار ہے۔ متولی کے ورثاء کو اس سے روکنے کا حق نہیں۔ تاہم بہتر یہی ہے کہ آپس میں باہمی موافقت اور اتفاقِ رائے سے اس مبارک کام کو سر انجام دیاجائے۔
رد المحتار، ابن عابدين الشامي(م 1252هـ) (6/548)رشيدية
وفي ط عن الهندية: مسجد مبني أراد رجل أن ينقضه ويبنيه أحكم ليس له ذلك؛ لأنه لا ولاية له مضمرات إلا أن يخاف أن ينهدم، إن لم يهدم تتارخانية وتأويله إن لم يكن الباني من أهل تلك المحلة، وأما أهلها فلهم أن يهدموه ويجددوا بناءه ويفرشوا الحصير، ويعلقوا القناديل، لكن من مالهم لا من مال المسجد إلا بأمر القاضي خلاصة، ويضعوا حيضان الماء للشرب والوضوء إن لم يعرف للمسجد بان فإن عرف فالباني أولى، وليس لورثته منعهم من نقضه والزيادة فيه، ولأهل المحلة تحويل باب المسجد خانية
تقريرات الرافعي  على هامش رد المختار، عبد القادر بن مصطفى(م:1312 هـ)(6/548) رشيدية
…إن كان الباني من غيرهم لا يكون لهم ذلك لكون الولاية له ما دام حيًّا  لا لأهل المحلة تأمل
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس