بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

متبنٰی کا احکام

سوال

ایک شادی شدہ جوڑے کی اولاد نہیں ہے وہ کسی دوسرے کی بیٹی یا بیٹے کو لاکر پرورش کرتے ہیں اور بڑے ہونے کے بعد وہ بچی، بچہ انہیں ممی کہتے ہیں اور یہ بھی خوش ہوتے ہیں۔ بچی کے حقیقی والدین زندہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم نے بخش دی ہے۔ ایسا کرنا جائز ہے کہ نہیں اور اس کے کیا احکامات ہیں؟

جواب

جس بچے کو گود لیا جائے اس کو متبنیٰ کہتے ہیں اور شرعاً کسی بچے یا بچی کو گود لینا جائز ہے ،بشرطیکہ مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھا جائے
نمبر۱۔گود لیے بچے کو اس کے اصل ماں باپ ہی کی طرف منسوب کیا جائے اور کاغذات میں ولدیت کے خانے میں حقیقی والد ہی کا نام لکھا جائے،البتہ نگران (گارڈین) کے طور پر گود لینے والے کا نام لکھ سکتے ہیں ۔
نمبر۲۔ صرف متبنیٰ ہونے کی وجہ سے اس کو میراث میں حصہ دار نہ ٹھہرایا جائے ۔
نمبر۳۔گود لینے والوں سے مذکورہ بچے کا کوئی محرمیت کا رشتہ نہ ہو تو پردے کا اہتمام بھی ضروری ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ
{وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ۔۔۔(4) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ }
[الأحزاب: 4، 5]
صحيح البخاري (كتاب الفرائض،باب من ادعي الي غير ابيه)
عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام۔
صحيح البخاري (كتاب الفرائض ،باب قول النبيؑ من ترك مالا فلاهله)
 عن ابن عباس رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر»۔
التفسير المظهري (7/ 284) مكتبة الرشدية
(وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ )فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك۔
تفسير ملا علي قاري ؒ(4/191)دار الکتب العلمیۃ 
(ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ )ای انسبوھم الیھم لا الی غیرھم۔
الفتاوى الهندية (6/ 447) دار الفكر
ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس