میرے تین بیٹے ہیں بیٹی کوئی نہیں، اب میں اپنے بھائی کی نومولود بچی کو گود لینا چاہتاہے ،لیکن اس بچی کے بالغ ہونے کے بعد میرے اور میرے بیٹوں کے ساتھ پردہ کا مسئلہ ہے،تین بیٹے ہیں جبکہ ایک گھر میں رہنے کی وجہ سے پردہ کا اہتمام خاصا مشکل ہوگا ،اور فی الحال میری بیوی کا دودھ بھی نہیں آتاکہ اس بچی کو دودھ پلا کر رضاعت ثابت ہوجائے۔ اب شرعی طور پر کونسا ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے پردہ کا مسئلہ حل ہوجائے؟ کیا دوائی کے ذریعہ دودھ اتارا جاسکتاہے یا کوئی اور طریقہ اختیار کرلیا جائے؟
واضح رہے کہ کسی کی بچی یا بچے کو گود لینا جائز ہے جیساکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ کو گودلیاتھا لیکن اس کی وجہ سے شریعت کے احکام (نکاح،میراث، نسب اور پردہ) تبدیل نہیں ہوتے۔لیکن اگر کوئی عورت گود لینے کے ساتھ اس بچے کو مدتِ رضاعت میں دودھ پلائے تو وہ بچی اس کی اولاد کی طرح ہوجائے گی پھر اس مرضعہ(دودھ پلانے والی عورت)کے شوہر اور اس کی اولاد سے اس بچی کا پردہ ختم ہوجائےگا ۔
لہذا صورت مسئولہ میں آپ کی بیوی یا آپ کی والدہ (یعنی بیوی کی ساس) اگر اس بچی کو دودھ پلاتی ہے تو اس کی وجہ سے آپ کے بچوں کا بلوغت کے بعد اس کے ساتھ پردہ نہیں رہے گا اور اگر آپ کی بیوی کا دودھ نہیں آتا اور اس کے لئے طبی ہدایات کے مطابق خلافِ مضر صحت کوئی دوا استعمال کرکے دودھ اتارا جاسکتاہے تواس کی بھی گنجائش ہے بشرطیکہ مدتِ رضاعت میں ہو اور اس بات کا یقین ہو کہ بچی نے دودھ پی لیاہے۔ (ماخذہ: تبویب دار الافتاء جامعہ احسان القرآن(6/1) ودار العلوم کراچی(1981/90))
التفسير المظهري (7/ 284) مكتبة الرشدية
فلا يثبت بالتبني شىء من أحكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك- وفى الآية ردّ لما كانت العرب تقول من أن اللبيب الأريب له قلبان والزوجة المظاهر منها تبين من زوجها وتحرم عليه كالأم ودعى الرجل ابنه يرثه ويحرّم بالتبني ما يحرم بالنسب وقد كان النبي صلى الله عليه وسلم أعتق زيد بن حارثة بن شرحبيل الكلبي وتبنّاه قبل الوحى وأخا بينه وبين حمزة بن عبد المطلب- فلما تزوّج رسول الله صلى الله عليه وسلم زينب بنت جحش بعد ما طلقه زيد وكانت امرأته وقال المنافقون تزوج محمد امراة ابنه وهو ينهى عن ذلك أنزل الله تعالى هذه الآية ذلِكُمْ إشارة إلى كل ما ذكر قَوْلُكُمْ بِأَفْواهِكُمْ يعنى لا حقيقة لها فى الأعيان
صحيح مسلم (2/ 1070) دار إحياء التراث العربي
عن عائشة، أنها أخبرته: أن عمها من الرضاعة يسمى أفلح. استأذن عليها فحجبته، فأخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال لها: «لا تحتجبي منه، فإنه يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب
الدرالمختار،العلامة علاء الدين(م:1088ھ)(3 / 209)سعید
باب الرضاع (هو) لغة بفتح وكسر: مص الثدي. وشرعا (مص من ثدي آدمية) ولو بكرا أو ميتة أو آيسة، وألحق بالمص الوجور والسعوط (في وقت مخصوص)
الفتاوی التاتارخانیة ،فرید الدین عالم بن العلاء(م:786ھ)(4/ 363)فاروقیه
إذا تزوج امرأة ولم تلد منه قط ثم نزل لها اللبن من هٰذه المرأة فإن هٰذا اللبن من هٰذه المرأة دون زوجها لوارضعت صبیا لا یحرم علی ولد هذا الزوج من غیر هذه المرأة
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 69)
امرأة ولدت من زوج وأرضعت ولدها ثم تيبس لبنها ثم درّ لها اللبن بعد ذلك، فأرضعت صبيّاً إن لهذا الصبي أن يتزوج بابنة هذا الرجل من غير هذه المرأة، قال: وليس هذا بلبن الفحل، وكذلك إذا تزوج امرأة ولم تلد منه قط ثم نزل لها اللبن فإن هذا اللبن من هذه المرأة دون زوجها حتى لو أرضعت صبية لا تحرم على ولد هذا الزوج من غير هذه المرأة