ہماری کمپنی نے میزان بینک سے مختلف گاڑیاں ،کار اجارہ کے تحت لیز پر نکلوائی ہیں جس میں گاڑی بینک کے نام پر رجسٹر ڈ ہوتی ہیں معاہدہ کمپنی کے کسی مالک کے نام پر ہوتاہے جس کی ڈاؤن پیمنٹ اورماہانہ قسط کمپنی کے اکاؤنٹ سے براہ راست کٹتی ہیں ۔بینک گاڑی کو سبلٹ اور سب لیز کرنے یعنی آگے کرایہ پر دینے یا بیچنے کی باقاعدہ معاہدے کے تحت اجازت نہیں دیتا تو ایسی صورتحال میں اگر گاڑی ایک مالک کے نام پر نکلوائی ہو تو کیا کسی دوسرے مالک کواستعمال کےلئے دی جاسکتی ہے؟ نیز اگر بینک اس چیز کی اجازت دے دے توکیا شرعا اس کی اجازت ہے ؟
نمبر1:- کمپنی کےلئے لیز پرلی گئی گاڑی کے بارے میں کمپنی کو اختیار ہے کہ وہ یہ گاڑی کمپنی کے مفاد میں استعمال کےلئے جس ملازم کو چاہے دے ۔ تاہم کمپنی کو اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ جس ملازم کو استعمال کےلئے گاڑی دی جارہی ہے ،وہ ملازم گاڑی کو معروف طریقے سے چلانا جانتاہو ۔بینک کی طرف سےاجازت والی صورت تفصیل سے لکھ کر سوال دوبارہ کرلیا جائے ۔