بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

لفظ’’طلاق‘‘ لکھنےسےطلاق کاوقوع

سوال

ایک شخص نےاپنی بیوی سےکسی کام کاکہا اوربیوی نےاس سےاعراض کیاتواس صورت میں وہ شخص ایک کاغذپرلفظ “طلاق”لکھتاہےاوربیوی کووہ کاغذ(رقعہ) دینےسےپہلےاس کےہاتھ سےکوئی اور،وہ رقعہ لےکرضائع کردیتاہے۔مذکورہ صورت میں اگربیوی نےاپنےشوہرکولکھتےہوئےدیکھاہےتوکیاحکم ہےاوراس کی برعکس صورت میں کیاحکم ہے؟
تنقیح: مذکورہ سوال میں مزید وضاحت کریں کہ جب آدمی نےاپنی بیوی کےسامنےلفظ طلاق لکھا تواس وقت اس کی نیت کیاتھی اپنی بیوی کوطلاق دینےکی تھی یانہیں اوراس صورت میں لفظ طلاق کےساتھ کچھ اورالفاظ بھی اس نےلکھےیانہیں؟
جوابِ تنقیح: مذکورہ صورت میں شوہرنےصراحتاً توکوئی نیت نہیں کی تھی اورنہ ہی اورکچھ لکھاتھا،پس یہ خیال کیاتھاکہ یہ ورقہ اسےدکھاؤں گا۔

جواب

واضح رہے کہ اگرکوئی شخص اپنی بیوی کوطلاق دینے کے لئے لفظ ’’طلاق‘‘لکھتاہے تویہ لفظ لکھتے ہی طلاق واقع ہوجاتی ہےاورجوابِ تنقیح میں مذکورالفاظ کہ’’یہ خیال کیاتھاکہ یہ رقعہ اسے دکھاؤں گا‘‘سے بظاہریہی معلوم ہوتاہے کہ شوہرنے طلاق دینے کے لئے ہی یہ لفظ لکھاہے ،اگرواقعۃ ً ایساہی ہے تومذکورہ لفظ لکھنے سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی جس کاحکم یہ ہے کہ عدت کے اندر شوہررجوع کرناچاہے تو کرسکتاہے اور عدت گزرجانے کے بعد باہمی رضامندی سے نئے مہرکے عوض نیا نکاح کرسکتے ہیں۔
الفتاوى الهندية(1/378)دارالفکر
(الفصل السادس في الطلاق بالكتابة) الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا
رد المحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(3/ 246)سعيد
 (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس