بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

لاوارث شخص کی میراث کا حکم

سوال

ایک خاتون کا انتقال ہوا ہے جو اپنے مرحوم شوہر کی دوسری بیوی تھی، مرحومہ کے ور ثاء کا کہیں پتہ نہیں چل رہا، اس کی وراثت کا کیا کیا جائے ،مرحوم کی پہلی بیوی کی اولاد زندہ ہے، کیا وہ اس کی وارث بن سکتی ہے ؟

جواب

مرحومہ کے سوتیلے بیٹے شرعا وارث نہیں ہیں بلکہ حتی الامکان مرحومہ کے ور ثاء کا پتہ چلایا جائے اور اس کے خاندان کے افراد کو تلاش کیا جائے۔ تلاش کے بعد اگر کوئی نہ ملے مثلا نہ باپ ہے ، نہ دادا ہے ، نہ شوہر ہے ، نہ بیٹی ہے، اور نہ ہی عصبات میں سے کوئی موجود ہے مثلا لڑکے ، پوتے، میت کے بھائی ان کی اولاد، دادا، پر داداد غیر ہ میں سے کسی کی اولاد اگر ان میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو ۔ اسی طرح ذوی الارحام یعنی میت کی بیٹیوں کی اولا دیا میت کی پوتیوں کی اولاد، میت کے بھانجے بھانجیاں وغیر ہ اگر کوئی بھی موجود نہ ہو ان تمام کی مکمل تحقیق اور تلاش کے بعد پھر اس کے ترکے کا حکم یہ ہے اگر مسلمانوں کا بیت المال قابل اعتماد ہو تو اس کا ترکہ بیت المال میں دیا جائے گا لیکن اگر بیت المال قابل اعتماد نہ ہو تو پھر اس کے مال کو امور خیر میں مثلا مساجد کی مرمت و خدمت مدارس اسلامیہ کی ضرورت یا مسافر خانوں کی تعمیر وغیرہ میں صرف کر دیا جائے گا کیونکہ یہ امور مصارف بیت المال میں داخل ہیں اور ان امور میں صرف کرنا بیت المال میں جمع کروانے کے قائم مقام ہے۔ اور اگر اس کے ورثاء خاندان کے افراد، عصبات وغیرہ میں سے کوئی موجود ہو تو تفصیل لکھ کر دوبارہ حکم معلوم کریں۔
في الهندية (6/498) بیروت
ويستحق الارث باحدى خصال ثلاث بالنسب وهو القرابة والنسب وهو الزجيةوالولاء۔
رد المختار (6/766) سعيد
ثم الموصى له بما زاد على الثلث. . . ثم یوضع فی البیت المال لا ارثابل فيئ المسلمين۔
امداد الفتاوی جدید مطول حاشیه (ج9/ 613) نعمانیه کوئٹه
ثم بیت المال اى اذالم يوجد احد من المذكورين توضع التركة فى بيت المال على انها مال ضائع مضارب بجمع المسلمين (الشريفية) وتحته في هامشه : فيصرف الى نفقة المريض و ادویتہ اذا  كانوا فقراء و إلى نفقة اللقيط و عقل جنايته والى من عاجز عن الكسب لیس له من يفرض عليه نفقته وكذلك الى مثل ذلک و ذکر فی کامل: انه يجوز صرفه الى مصارف الجزية والخراج كالقضاة والفقهاء الاعلام و غیر دلک مما فيه صلاح دار الاسلام وجوز الطحاوى الصرف فی  اكفان الموتى الفقراء و جعل قاضیخان یعم اثر …القناطیر۔ (الشریفیۃ شرح السراجیۃ، قبیل فصل فی الموانع ، مکتبہ رحیمیہ ،دیوبند ص: 11)۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

18

/

10

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس