بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

لاعلمی کی وجہ سےتین طلاق کےاسٹام پردستخط کرنا

سوال

میرےوالدصاحب نےایک شخص سےمجھ سےپوچھےبغیرمیری بیوی کےلئےطلاق نامہ لکھوایا۔میں لکھنا،پڑھنانہیں جانتا۔مجھےانہوں نےیہ بتایاکہ یہ طلاق نامہ ہےاس پرانگوٹھالگاؤ،مجھےیہ نہیں بتایاکہ اس میں کتنی طلاقیں لکھی ہوئی ہیں اورمیں حلفاًیہ بیان دیتاہوں کہ مجھےیہ علم نہیں تھاکہ اس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں، نہ میں نےاس تحریرکوپڑھااورنہ ہی مجھےکسی نےیہ بتایاکہ اس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں۔واضح رہےکہ مجھےاس بات کاعلم تھاکہ طلاق نامہ میں ایک طلاق بھی ہوتی ہےاورکبھی دواورکبھی تین ، لیکن ارادہ ہرگزتین طلاقوں کانہیں تھا،بلکہ ایک ہی طلاق دینےکاارادہ تھا۔اب پوچھنایہ ہےکہ مذکورہ صورت میں ہمارےلئےدوبارہ صلح کی کوئی صورت ممکن ہےیانہیں؟

جواب

سوال میں ذکرکردہ بیان اگرواقع کےمطابق ہےتوصورتِ مسئولہ میں آپ کی بیوی پرایک طلاقِ رجعی واقع ہوئی ہے،جس کاحکم یہ ہےکہ عدت کےدوران شوہرکورجوع کرنےکاحق حاصل ہےاورعدت گزرجائےتواس کےبعدمیاں بیوی باہمی رضامندی سےنئےمہرکےعوض نیانکاح کرسکتےہیں ۔واضح رہےکہ مذکورہ حکم اورصورت اس وقت ہےکہ جب آپ کی نیت صرف ایک طلاق دینےکی ہو،لیکن اگرعرف کےمطابق آپ کےذہن میں یہ ہوکہ عموماًطلاق نامہ میں تین طلاقیں ہوتی ہیں توایسی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوں گی۔
ردالمختار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ) (3/246)سعيد
وکذاکل کتاب لم یکتبه بخطه ولم يمله بنفسه لايقع الطلاق مالم يقر أنه كتابه۔
  وكذافي الفتاوى الهندية (1/ 379)دارالفكر
 رجل استكتب من رجل آخر إلى امرأته كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه وطواه وختم وكتب في عنوانه وبعث به إلى امرأته فأتاها الكتاب وأقر الزوج أنه كتابه فإن الطلاق يقع عليها وكذلك لو قال لذلك الرجل ابعث بهذا الكتاب إليها أو قال له اكتب نسخة وابعث بها إليها وإن لم تقم عليه البينة ولم يقر أنه كتابه لكنه وصف الأمر على وجهه فإنه لا يلزمه الطلاق في القضاء ولا فيما بينه وبين الله تعالى۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس