میرےوالدصاحب نےایک شخص سےمجھ سےپوچھےبغیرمیری بیوی کےلئےطلاق نامہ لکھوایا۔میں لکھنا،پڑھنانہیں جانتا۔مجھےانہوں نےیہ بتایاکہ یہ طلاق نامہ ہےاس پرانگوٹھالگاؤ،مجھےیہ نہیں بتایاکہ اس میں کتنی طلاقیں لکھی ہوئی ہیں اورمیں حلفاًیہ بیان دیتاہوں کہ مجھےیہ علم نہیں تھاکہ اس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں، نہ میں نےاس تحریرکوپڑھااورنہ ہی مجھےکسی نےیہ بتایاکہ اس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں۔واضح رہےکہ مجھےاس بات کاعلم تھاکہ طلاق نامہ میں ایک طلاق بھی ہوتی ہےاورکبھی دواورکبھی تین ، لیکن ارادہ ہرگزتین طلاقوں کانہیں تھا،بلکہ ایک ہی طلاق دینےکاارادہ تھا۔اب پوچھنایہ ہےکہ مذکورہ صورت میں ہمارےلئےدوبارہ صلح کی کوئی صورت ممکن ہےیانہیں؟
سوال میں ذکرکردہ بیان اگرواقع کےمطابق ہےتوصورتِ مسئولہ میں آپ کی بیوی پرایک طلاقِ رجعی واقع ہوئی ہے،جس کاحکم یہ ہےکہ عدت کےدوران شوہرکورجوع کرنےکاحق حاصل ہےاورعدت گزرجائےتواس کےبعدمیاں بیوی باہمی رضامندی سےنئےمہرکےعوض نیانکاح کرسکتےہیں ۔واضح رہےکہ مذکورہ حکم اورصورت اس وقت ہےکہ جب آپ کی نیت صرف ایک طلاق دینےکی ہو،لیکن اگرعرف کےمطابق آپ کےذہن میں یہ ہوکہ عموماًطلاق نامہ میں تین طلاقیں ہوتی ہیں توایسی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوں گی۔