بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

كهانےمیں شریک ہونے والے طلباء میں نام لکھا کر شریک نہ ہونا

سوال

ہمارےہاں مدرسہ میں شبِ جمعہ کوقیام کرنیوالےطلباءکی فہرست تیارہوتی ہےتاکہ فہرست کےمطابق شبِ جمعہ کےکھانےکانظم بنایاجاسکے،بسااوقات باورچی کی عدم موجودگی کےسبب کھانابازارسے منگواناپڑتاہے،بعض طلباءفہرست میں نام لکھوانےکےباوجودشب کےکھانےمیں حاضرنہیں ہوتےجس سے ان کےمقرر حصے کا کھانا ضائع ہوجاتا ہے اور بعض مرتبہ استعمال بھی ہوجاتا ہے مثلا ایک ساتھی کا کھانا ایسے دس ساتھیوں کوکھلادیاجاتاہےجواپنےحصےکاکھاناکھاچکےہوں جبکہ اگروہ نام نہ لکھواتا تواس کا کھانانہ منگوایاجاتا۔ مسئول/ذمہ داراستاذنےعدم حاضری کےسدِباب کیلئےیہ طریقہ اختیارکیاہےکہ جوطلباء شبِ جمعہ کےکھانے میں نام لکھوانےکےباوجودحاضرنہیں ہوں گےان سےتعزیراً دو وقت کےکھانےکی رقم 40 روپےوصول کی جائےگی۔اب مسئول استاذکایہ رقم وصول کرناکیاشرعی حیثیت رکھتاہے؟کیایہ رقم مدرسہ کےمطبخ میں جمع کرائی جاسکتی ہے ؟ جس میں طلباء کے طعام کا انتظام کیاجاتا ہے ۔

جواب

مذکورہ صورت میں تعزیریا ضمان کے طورپر طلباء سے رقم وصول کرناجائز نہیں ہے ، ہاں اگر اس کے علاوہ عدمِ حاضری کے سدِ باب کے لئے ارباب مدرسہ دائرہ شریعت میں رہتے ہوئی کوئی مناسب ضابطہ بنادیں مثلا ایسے طلباء کا کھانا بند کردیا جائے  ،اگر وہ مدرسہ سے کھاناچاہیں تو خرید کر کھائیں تو اس کی گنجائش ہے ۔
کما قال الله تعالیٰ فی الکلام المجید[النساء: 29]
{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ}
مسند أحمد، أحمد بن محمد بن حنبل الشيباني(م:241هـ) (7/59) الرسالة
3946 – عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” من اقتطع مال امرئ مسلم بغير حق، لقي الله عز وجل وهو عليه غضبان “۔
الدر المختار،علاء الدين الحصكفي الحنفي(م:1088هـ)(3/195) رشیدیة 
(لا بأخذ مال في المذهب) بحر. وفيه عن البزازية: وقيل يجوز، ومعناه أن يمسكه مدة لينزجر ثم يعيده له، فإن أيس من توبته صرفه إلى ما يرى. وفي المجتبى أنه كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ۔
الفتاوى الهندية (2/167) رشیدیة کوئتة
وعند أبي يوسف – رحمه الله تعالى – يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال وعندهما وباقي الأئمة الثلاثة لا يجوز كذا في فتح القدير. ومعنى التعزير بأخذ المال… ۔
حاشية السندي على سنن النسائي،العلامةنور الدين السندي(م:1138هـ)(5/16) الإسلامية،حلب
والجمهور على أنه حين كان التعزير بالأموال جائزا في أول الإسلام ثم نسخ فلا يجوز الآن أخذ الزائد على قدر الزكاة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس