بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قیمت کی ادائیگی سے پہلے اسی بائع کو وہی چیز کم قیمت پر فروخت کرنا

سوال

ایک شخص نے ایک مجلس میں ایک موبائل فون پچاس ہزار روپے ادھار دوسرے شخص پر بیچا پھر اسی مجلس میں یا کچھ دیر بعد دوسری مجلس میں اس سے تیس ہزار روپے میں نقد خرید لیا۔ تو کیا اس طرح کی بیع کرنا جائز ہے؟

جواب

کم قیمت پر فروخت کرنا

سوال میں ذکر کردہ خرید و فروخت کی یہ صورت شرعاً جائز نہیں ۔کیونکہ حدیث پاک میں اس طرح کی بیع کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ لہذا اس سے اجتناب کیا جائے ۔البتہ بیع کو درست کرنے کے لیے یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ فروخت کنندہ موبائل کی کل قیمت( بچاس ہزار روپے) خریدار سے وصول کر لے اس کے بعد باہمی رضامندی سے 30 ہزار روپے میں دوبارہ خرید لے۔
مصنف عبد الرزاق(8/ 184) المجلس العلمي
عن أبي إسحاق، عن امرأته، أنها دخلت على عائشة في نسوة فسألتها امرأة فقالت: يا أم المؤمنين، كانت لي جارية، فبعتها من زيد بن أرقم بثمان مائة إلى أجل، ثم اشتريتها منه بست مائة، فنقدته الستمائة، وكتبت عليه ثمان مائة، فقالت عائشة: ” بئس والله ما اشتريت، وبئس والله ما اشتري، أخبري زيد بن أرقم: أنه قد أبطل جهاده مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا أن يتوب
البناية  (8/ 172) دار الكتب العلمية
(قال ومن اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة، فقبضها ثم باعها من البائع بخمسمائة قبل أن ينقد الثمن لا يجوز البيع الثاني) ش: وبه قال مالك وأحمد – رَحِمَهُمُ اللَّهُ -: واعلم أن شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن لا يجو    ز عندنا
المحيط البرهاني  (8/ 9) دار الكتب العلمية
وقال: في شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن، أنه لا يجوز، بلغنا ذلك عن عائشة رضى الله عنها، ونظائره في الكتب كثيرة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس