بیعِ معدوم اور قفیزِ طحان کے عدمِ جواز کا حکم کیا نصوصِ صریحہ سے ثابت ہے؟ اگر واقعی نصوصِ قطعیہ سے اس کا عدمِ جواز ثابت ہو تو پھر عرف کے اعتبار سے بیعِ معدوم کی بعض صورتوں (جیسے: چیز بنوا کر آرڈر پر خریدنا، یا قفیزِ طحان کی طرز پر اجرت لینا) کو جائز قرار دینا کس حد تک درست ہوگا؟ نیز کیا یہ عرف کا اعتبار نصوصِ صریحہ کے مقابلے میں نہیں آتا؟ جبکہ اصول یہی ہے کہ عرف کی حجیت نصوص کے تابع ہے، نہ کہ مخالف! برائے مہربانی ان تمام امور کی وضاحت فرما دیں۔
نمبر۱۔ :بیع ِ معدوم کی ممانعت کے بارے میں صریح احادیث مندرجہ ذیل ہیں ۔ مسند احمد میں عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،فر ماتے ہیں:
أن النبي صلى الله عليه وسلم ” نهى عن حبل الحبلة “( مسند أحمد ،4/ 394)
حضور ﷺ نے حمل کے حمل کی بیع سے منع فرمایا”۔”
نمبر ۲۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت منقول ہے فرماتے ہیں
أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن المعاومة.(مصنف ابن أبي شيبة،5/ 14)
ترجمہ: آپ ﷺ نے باغ میں پھل آنے سے پہلے کئی سال کےلیے ان کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
فقہاءِ کرام نے ان احادیث مبارکہ کی روشنی میں معدوم کی بیع کو ممنوع قرار دیا ہے اور مبیع کی موجودگی کو بیع کےلیے شرط قرار دیا ۔چنانچہ فقہ البیوع میں مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں :
والثالث لصحۃ البیع… أن یکون المبیع موجودا.وھذا شرط لانعقاد البیع ،فلا ینعقد بیع المعدوم .(فقہ البیوع،1/326)
اس سے متعلق مزید مدلل و مفصل بحث کےلیے بدائع الصنائع اور فقہ البیوع کی طرف مراجعت کریں ۔(بدائع الصنائع4/138،ط:دارالکتب العلمیہ، فقہ البیوع ،1/585ط:معارف القرآن)
ب: قفیز طحان کی ممانعت کے بارے میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں : «نهي عن عسب الفحل، وعن قفيز الطحان». (السنن الكبرى للبيهقي5/ 554) ترجمہ: آپ ﷺ نے جانوروں کی جفتی کی اجرت اور قفیز طحان سے منع فرمایا ۔ یہ تمام روایات بیع المعدوم اور قفیز طحان کی ممانعت پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں ۔ ج: آرڈر پر چیز بنوانے (استصناع ) کو معدوم کی بیع قرار دے کر نا جائز کہنا محلِ نظر ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ استصناع کی تکییف میں فقہاء کی عبارات مختلف ہیں جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے : نمبر ۱۔علامہ ابن الہمام رحمہ اللہ “الذخیرہ “سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ استصناع ابتداءً اجارہ ہے، مصنوع کے تیار ہونے کے بعد اور تسلیم(سپردگی) سے تھوڑا قبل یہ عقد بیع بن جاتا ہے ،اس صورت پر چونکہ مبیع کے معدوم ہونے کا اعتراض ہی وارد نہیں ہوتا ،لہذااس کو معدوم کی بیع کہہ کر ناجائز قرار دینا درست نہ ہوا ، کیونکہ اس معاملہ میں جب عقد بیع طار ی(جاری) ہوتا ہے اس وقت مبیع موجود ہوتی ہے ۔ نمبر ۲۔صاحبِ ہدایہ استصناع کو ابتداء ہی سے بیع قرار دیتے ہیں ابتداءً بیع ہونے کی صورت میں اگرچہ یہ عقد قیاساً ناجائز ہونا چاہیے ،کیونکہ اس صورت میں مبیع بوقت ِ عقد موجود نہیں ہوتی ،لیکن شرعاً بعض اوقات معدوم کو موجود کے حکم میں ضرورتاً تسلیم کیا جاتا ہے، جس کی نظائر اور بھی شریعت میں موجود ہیں ۔ نمبر۳۔نیز آپ ﷺ سے استصنا ع کا عقد ثابت ہے اس طور پر کہ آپ ﷺجس انگوٹھی سے مہر لگاتے تھے اور جس منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے تھے دونوں استصناعاً تیار کروائے تھے،اور استصناع کا امت مسلمہ میں ابتدا سے بلا نکیر تعامل چلا آرہا ہے۔ اس لیے استصناع کو اگر ابتداء ہی سے بیع قرار دیا جائے تب بھی استصناع کا معاملہ کرنا استحساناً درست ہے۔(ماخذہ :فقہ البیوع :1/587) د: واضح رہے کہ قفیزِ طحان کی جن صورتوں پر نہی وارد نہیں ہوئی ان کے جواز میں عرف کو نص کے مقابلے میں ترجیح نہیں دی گئی ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ قفیزِ طحان کی جس صورت پر نہی وارد ہوئی ہے اس کی علت میں فقہاء کا اختلاف ہے یعنی قفیزِ طحان کی ممنوعہ صورت کی علت قطعی نہیں ہے اور اصول یہ ہے کہ جس نص کی علت قطعی نہ ہو اس میں عرفِ عام کی وجہ سے تخصیص کی جاسکتی ہے اسی وجہ سےقفیزِ طحان کی نظائر کے حکم میں عرفِ عام کی وجہ سے تخصیص کی گئی ہے ، لہذا قفیزِ طحان کے مسئلہ میں نہ نص کو ترک کیا گیا ہے اور نہ ہی عرف کے مقابلے میں نص کو ترجیح دی گئی ہے بلکہ عرف عام کی وجہ سے نص کے عمومی حکم میں تخصیص کی گئی ہے ۔
شرح السنة للبغوي (8/ 137)
عن سعيد بن المسيب أنه قال: لا ربا في الحيوان، وإنما نهي من الحيوان عن ثلاثة: عن المضامين، والملاقيح، وعن حبل الحبلة. والمضامين: بيع ما في بطون إناث الإبل. والملاقيح: بيع ما في ظهور الجمال. وحبل الحبلة: بيع كان أهل الجاهلية
يتبايعونه، كان الرجل منهم يبتاع الجزور إلى أن تنتج الناقة، ثم تنتج التي في بطنها. قال أبو عبيدة: الملاقيح: المحمولات في البطن، وهي الأجنة، والواحدة منها ملقوحة، والمضامين: ما في أصلاب الفحول
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (5/3476)
أجمع العلماء على أن بيع الثمار قبل أن تخلق لا ينعقد؛ لأنه من باب النهي عن بيع ما لم يخلق ومن باب بيع السنين والمعاومة
شرح السنة للبغوي (8/ 263)
وقد جاء في الحديث النهي عن قفيز الطحان، قيل: هو أن يقول: اطحن هذا بكذا وزيادة قفيز من نفس الطحين، فذلك غير جائز
شرح السنة للبغوي (8/ 263)
ولو استأجر أجيرا ليتعهد نخيله على أن له ثمرة نخلة بعينها، فإن كان قبل خروج الثمرة لا يجوز، كما لا يجوز بيع المعدوم
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (12/ 166)
لا يجوز إذا استأجر حمارا يحمل طعاما بقفيز منه، لأنه جعل الأجر بعض ما يخرج من عمله، فيصير في معنى قفيز الطحان وقد نهى عنه صلى الله عليه وسلم، وأخرجه الدارقطني والبيهقي من حديث أبي سعيد الخدري، قال: نهى عن عسب الفحل وعن قفيز الطحان، وتفسير: قفيز الطحان: أن يستأجر ثورا ليطحن له حنطة بقفيز من دقيقه، وكذا إذا استأجر أن يعصر له سمسما بمن من دهنه أو استأجر امرأة لغزل هذا القطن أو هذا الصوف برطل من الغزل، وكذا اجتناء القطن بالنصف، ودياس الدخن بالنصف، وحصاد الحنطة بالنصف، ونحو ذلك، وكل ذلك لا يجوز
صحيح البخاري (2/ 9)
سهل بن سعد الساعدي أرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى فلانة – امرأة من الأنصار قد سماها سهل – «مري غلامك النجار، أن يعمل لي أعوادا، أجلس عليهن إذا كلمت الناس» فأمرته فعملها من طرفاء الغابة، ثم جاء بها، فأرسلت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأمر بها فوضعت ها هنا
صحيح مسلم (3/ 1657)
عن أنس، أن نبي الله صلى الله عليه وسلم كان أراد أن يكتب إلى العجم، فقيل له: إن العجم لا يقبلون إلا كتابا عليه خاتم، «فاصطنع خاتما من فضة»، قال: «كأني أنظر إلى بياضه في يده
بدائع الصنائع (5/ 138):
وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها) : أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم، وماله خطر العدم كبيع نتاج النتاج بأن قال: بعت ولد ولد هذه الناقة وكذا بيع الحمل؛ لأنه إن باع الولد فهو بيع المعدوم، وإن باع الحمل فله خطر المعدوم، وكذا بيع اللبن في الضرع؛ لأنه له خطر لاحتمال انتفاخ الضرع.الھدایۃ مع فتح القدیر (7/ 114)
(وإن استصنع شيئا من ذلك بغير أجل جاز استحسانا) للإجماع الثابت بالتعامل
وفي القياس لا يجوز لأنه بيع المعدوم، والصحيح أنه يجوز بيعا لا عدة، والمعدوم قد يعتبر موجودا حكما
فتح القدير (7/ 116)
في الذخيرة: وهو إجارة ابتداء بيع انتهاء، لكن قبل التسليم لا عند التسليم
أصول الإفتاء وآدابہ (ص:254)
وأماالعرف العملی الذی قد یعبر عنہ ب”التعامل “أو “العادۃ “فإنہ قد یؤ ثر فی تغییر الأحکام. ولکن لیس کل تعامل معتبراً فی الشرع. قال ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: إذا خالف العرف الدلیل الشرعی، فإن خالفہ من کل وجہ بأن لزمہ منہ ترک النص، فلا شک في ردہ ،کتعارف الناس کثیرا من المحرمات من الربوٰ
أصول الإفتاء وآدابہ (ص:260)
قد یرد النص فی جز ئیۃ مخصوصۃ، ویثبت الفقہاء حکمہ فی نظائرہ، إما بدلالۃ النص أو بالقیاس وحیئنذ إن جری العرف فی تلک النظائر بخلاف القیاس علی النص، فقد یعتبر الفقہاء العرف فی تلک النظائر، دون الجزئیۃ التی ورد فیھا النص. مثالہ ما ورد من النھي عن قفیز الطحان
و فیہ أیضا (ص:261)
والظاھر أن ماذکروہ من أن التعامل یترک بہ القیاس و یخص بہ النص، لیس علی إطلاقہ، والذی یظھر لھذا العبد الضعیف عفا اللہ عنہ –واللہ سبحانہ أعلم –أن ھذا إنما یتاتی فی النص الذی لم یثبت علتہ بالقطع والیقین، ولذلک اختلف المجتھدون فی تعلیلہ(أي تعلیل قفیز الطحان )