بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قصاص کا حق ورثا ء میں کن کو حاصل ہے

سوال

کیا مقتول کی بیوی کو قصاص معاف کرنے کا حق حاصل ہے ،جب کہ قاتل مقتول کا برادرِ نسبتی /سالہ (یعنی معاف کرنے والی بیوی کابھائی) ہے اورمعافی کے وقت مقتول کے ورثاء میں مذکورہ بیوی کے علاوہ ایک نابالغ بیٹابھی ہے۔نیز کیا بیوی کے معاف کرنے کے بعد مقتول کے بھائی قصاص کا مطالبہ کرسکتے ہیں ۔ نیز قصاص کا حق کن ورثاء کومنتقل ہو سکتا ہے اوراس کی کیا شرائط ہیں ؟۔

جواب

شریعتِ مطہر ہ کے مطابق مقتول کا قصاص لینے کا حق اولیائے مقتول کو حاصل ہوتا ہے اور قصاص کے حق میں مقتول کے اولیاء اس کے شرعی ورثاء ہیں ۔لہٰذامذکورہ صورت میں صرف مقتول کی بیوہ قصاص کی ولیہ قرار پاتی ہے، اسے قصا ص معاف کرنے کا شرعا ً حق حاصل ہے ۔ اگر اس نے معاف کردیا ہو تو قصاص ساقط ہو جائے گا۔ اورشرعاً کسی کے معاف کرنے سے قصاص ساقط ہو نے کی صورت میں معاف کرنے والے کا حق دیت سے بھی ساقط ہو جاتاہے ،اور بقیہ ورثاء کا حق قصاص دیت میں منتقل ہوجاتا ہے ،جو وراثت میں اپنے حصہ کے بقدر دیت میں حقدار ہوں گے۔
واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں بیوی اور نابالغ بیٹے کے ہو تے ہو ئےبھائی شرعی ورثاء میں شامل نہیں ،اس لئے قصاص کے حق میں وہ ولی نہیں ،بلکہ اجنبی ہیں ۔اس لئے ان کو قصاص لینے یا معاف کرنے کا حق حاصل نہیں ۔
ردالمحتار، العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252ھ)(6/ 539)سعيد
(قوله وللكبار القود إلخ) أي إذا قتل رجل له ولي كبير وصغير كان للكبير أن يقتل قاتله عنده؛ لأنه حق مشترك، وفي الأصل إن كان الكبير أبا استوفى القود بالإجماع، وإن كان أجنبيا بأن قتل عبد مشترك بين أجنبيين صغير وكبير ليس له ذلك. وفي الكلام إشارة إلى أنه لو كان الكل صغارا ليس للأخ والعم أن يستوفيه كما في جامع الصفار، فقيل ينتظر بلوغ أحدهم، ۔۔۔۔ وإلى أنه لو كان الكل كبارا ليس للبعض أن يقتص دون البعض ولا أن يوكل باستيفائه؛ لأن في غيبة الموكل احتمال العفو فالقصاص يستحقه من يستحق ماله على فرائض الله تعالى ويدخل فيه الزوج والزوجة كما في الخلاصة،… وإلى أنه لو كان القتل خطأ لم يكن للكبير إلا استيفاءحصة نفسه
وفيه أيضا(6/540)سعيد
وكذا لو قتل عن زوجة وابن صغير من غيرها فللزوجة القصاص؛ لأن مرادهم بالقرابة ما يشمل الزوجية كما مر وبه أفتى العلامة ابن الشلبي في فتاواه المشهورة فيمن قتل امرأة عمدا ولها زوج وابن صغير من غيره فأجاب للزوج القصاص قبل بلوغ الولد
تبيين الحقائق،فخر الدين الزيلعي الحنفي(م:743ھ)(6/ 113)المطبعة الكبرى الأميرية
(فإن صالح أحد الأولياء عن حظه على عوض أو عفا فلمن بقي حظه من الدية)؛ لأن كل واحد منهم متمكن من التصرف في نصيبه استيفاء وإسقاطا بالعفو أو بالصلح؛ لأنه يتصرف في خالص حقه فينفذ عفوه وصلحه فيسقط به حقه في القصاص ومن ضرورته سقوط حق الباقين أيضا فيه؛ لأنه لا يتجزأ ألا ترى أنه لا يتجزأ ثبوتا فكذا سقوطا… فإذا سقط انقلب نصيب من لم يعف مالا؛ لأنه تعذر استيفاؤه لمعنى في القتل وهو ثبوت عصمة القاتل بعفو البعض عن القصاص فيجب المال كما في الخطإ
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس