احمد نےخالد کو مال بیچا ادھار پر ،احمد کہتاہے کہ یہ مال 10000 روپے کا ہے اور خالد کی درخواست پر اس کو 5 ماہ کی ماہ وار قسطوں پر ادائیگی قرار پائی ۔احمد نے شرط لگائی کہ اس 10000 روپے کے اوپر 3 فیصد مزید جمع کرو اور قسطوں میں ادھار کی صورت میں 5 ماہ میں ادا کرو۔ دونوں راضی ہوگئے۔ اس 10000 کی بجائے تم مجھے 10300 قسطوں کی صورت میں 5 ماہ میں ادا کرو ، دونوں راضی ہوگئے۔ کونسی شرط صحیح ہے جبکہ 10000 کا 3 فیصد 300 روپے ہی بنتاہے؟
رد المحتار على الدر المختار (5/ 160) سعید
مطلب إذا قضى المديون الدين قبل حلول الأجل أو مات لا يؤخذ من المرابحة إلا بقدر ما مضى.۔۔۔ إذا كان لزيد بذمة عمرو مبلغ دين معلوم فرابحه عليه إلى سنة، ثم بعد ذلك بعشرين يوما مات عمرو المديون، فحل الدين ودفعه الوارث لزيد، فهل يؤخذ من المرابحة شيء أو لا؟ الجواب جواب المتأخرين: أنه لا يؤخذ من المرابحة التي جرت المبايعة عليها بينهما إلا بقدر ما مضى من الأيام
فقہ البیوع ( 1/ 282) مکتبۃ المعارف کراتشی
ہل یجوز ان یکون الثمن المؤجل زائدا علی الثمن الحال ؟ قد حکی الشوکانی رحمه اللہ تعالیٰ عن زین العابدین علی بن حسین ،والناصر ،والمنصورباللہ ،والھادویة انه لا یجوز لکون الزیادۃ مقابلا للاجل و ھو الربا ، او فیہ مشابھة الربا
البحر الرائق ( 6/200) رشیدیة
واما الزیادۃ فی الرھن فسیاتی انہا صحیحة لا فی الدین