ہمارےہاں مروّجہ اقساط کالین دین جس کی تفصیل کچھ یوں ہیں۔پہلی بات یہ کہ اس کاروبارمیں ایک چیزکےدو ریٹ ہوتےہیں۔مثلاًایک چیزکی قیمت نقدکی صورت میں سات ہزارروپےتوقسطوں کی صورت میں دس ہزارروپےہوتی ہے۔دوسری بات یہ کہ اس دس ہزارروپےکی مدت آٹھ مہینےہےاگرمتعاقدین میں سےکوئی ایک یہ کہےکہ اس مذکورہ چیزکےپیسےپانچ ماہ میں پورےہوجائیں گےاوردس ہزارکےبجائےآٹھ ہزاردونگااوردوسراقبول کرلیتاہے،تویہ صورت کیسی ہے؟
کسی چیزکوادھار مہنگی اورنقدپرسستی بیچناشرعاًجائزہے،یہ سودکےزمرےمیں داخل نہیں ہے،البتہ ادھارکی بیع جائزہونےکےلئےچندشرائط کالحاظ کرناضروری ہے۔
نمبر۱۔خریدوفروخت کرنےوالےدونوں افرادپرلازم ہےکہ وہ مجلس عقدہی میں مبیع کی قیمت اورادائیگی کی مدت متعین کرلیں تاکہ بعدمیں جھگڑےکااندیشہ نہ ہو.
نمبر۲۔وقت مقررہ پرادائیگی نہ کرنےکی صورت میں مزیدرقم کی ادائیگی کی شرط نہ لگائی جائے۔
نمبر۳۔وقت مقررہ سےپہلےاداکرنےکی صورت میں قیمت میں کمی کی شرط نہ ہو۔
صورتِ مسئولہ میں ان شرائط کالحاظ نہیں کیاگیااس لیےشرعاًیہ معاملہ جائزنہیں ہے۔
شرح المجلة،محمدخالدالاتاسي(2/167)المادة:246،245)رشیدیة
البیع مع تاجیل الثمن وتقسیطه صحیح… یلزم ان تکون المدةمعلومة فی البیع بالتاجیل والتقسیط ؛لان جهالته تقضی الی النزاع۔
المبسوط لمحمدبن أحمد السرخسي(م: 483هـ)(13/7،9)دارالمعرفة
واذاعقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي – صلى الله عليه وسلم – عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع… وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد.فقط۔