زرعی سپرےبنانےوالی ایک کمپنی نےیہ اعلان کیا ہےکہ جو شخص ہم سے بیس ہزار تک سپرے خریدےگاتو اس کانام قرعہ اندازی کی فہرست میں شامل کریں گے۔جس کانام نکل آیا اس کو مختلف انعامات دیےجائیں گےاور اس قرعہ اندازی کی وجہ سے انہوں نے اشیاءکی قیمتوں میں بھی اضافہ نہیں کیا۔جبکہ یہ شخص اس کمپنی سےاس لئےسپرےخریدتاہےکہ شائدانعام نکل آئے، حالانکہ اس کمپنی کامعیاراور قیمت دوسری کمپنیوں کےبرابر ہےتو کیا اس کمپنی سےخریداری کرنادرست ہے؟
سوال میں ذکرکردہ قرعہ اندازی کرنےوالی کمپنی کےتیارکردہ سپرےکاجومعیارہےاس معیارکا سپرے بنانےوالی دیگرکمپنیوں کےسپرےکی قیمت اگرمذکورہ سپرےکےبرابرہےتواس صورت میں اس قرعہ اندازی والی کمپنی سےسپرےخریدنےکی گنجائش ہےلیکن اگراس سپرےکی قیمت زیادہ ہےاوریہ شخص صرف انعام کی لالچ میں زیادہ قیمت پرسپرےخریدتا ہےتویہ عمل درست نہیں ہے۔
:أحكام القرآن للجصاص، أبو بكر الرازي (م: 370هـ)(4/ 127)دار إحياء التراث العربي
القمار كله من الميسر وهو السهام التي يجيلونها فمن خرج سهمه استحق منه ما توجبه علامة السهم فربما أخفق بعضهم حتى لا يخطئ بشيء وينجح البعض فيحظى بالسهم الوافر وحقيقته تمليك المال على المخاطرة وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار۔
:سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث (م: 275هـ) (5/ 527)دار الرسالة العالمية
عن عبد الله بن عمرو: أن نبي الله -صلى الله عليه وسلم- نهى عن الخمر والميسر والكوبة والغبيراء۔
:بدائع الصنائع، علاء الدين الكاساني (م: 587هـ) (6/ 206/) دار الكتب العلمية
لو كان الخطر من الجانبين جميعا ولم يدخلا فيه محللا لا يجوز لأنه في معنى القمار نحو أن يقول أحدهما لصاحبه: إن سبقتني فلك علي كذا، وإن سبقتك فلي عليك كذا فقبل الآخر۔