مجھے تین صورتوں کا حکم معلوم کرنا ہے:(1) زیدنےبکرکوقرض دیا اوربکرمفلس ہوچکا ہے اب وہ قرض ادانہیں کرسکتاہےاس صورت میں اب سوال یہ ہےکہ زید کابکرکےپاس جوقرض ہےوہ زکوٰۃ سےمنہاکرسکتاہےیانہیں۔(2) بکرجب قرض اداکرنےسےعاجزآگیاتوزیدہی نےاپنی زکوٰۃخالدکو دیکریہ کہاکہ یہ رقم بکرکودےدوجوکہ قرض کےبوجھ تلےدباہواہےوہ اس سےاپناقرض باآسانی ادا کرسکےگا۔ (3) بکرزیدسےقرض طلب کرتاہےاورزید کواس بات کاعلم ہےکہ بکرمفلس الحال ہےقرض واپس ادا نہیں کرسکتاہےتوزیداپنی زکوٰۃکی رقم بکرکوبتائےبغیردیتاہےجبکہ وہ اس رقم کو واپس بھی نہیں لیتاہےان میں سےکونسی صورت درست ہے۔
تنقیح: دوسری صورت یہ معلوم کرنی ہےکہ زیدنےخالدکوزکوٰۃکی رقم مالک بناکردی ہےیعنی خالدمستحقِ زکوٰۃ شخص ہےاورزیدنےاسی کوزکوٰۃدی اورساتھ میں ترغیب دےدی کہ چونکہ بکرمقروض ہےتم اگران پیسوں سےاس کاتعاون کردوتواچھاہوگایازیدنےخالدکواس بات کاوکیل بنایاکہ تم یہ رقم بکرکودےدو۔ میں کسی وجہ سےاس کوبراہ راست نہیں دیناچاہتا وضاحت فرمائیں۔
جواب تنقیح: زیدنےخالدکوزکوٰۃکی رقم بطورِوکیل اورواسطہ کےدی ہےکہ یہ بکرکودےدو۔
مذکورہ صورتوں میں سےپہلی صورت جائزنہیں کیونکہ مقروض کوبری کرنےسےزکوٰۃادانہیں ہوتی،البتہ دوسری اورتیسری دونوں صورتیں جائزہیں لہٰذازیداگربکرکوخودیاخالدکےواسطےسےبہ نیتِ زکوٰۃ رقم دیدےاورپھراس سےوہ رقم قرض میں وصول کرلےتویہ جائزہےاس طرح زکوٰۃبھی اداہوجائےگی اورقرض بھی مل جائےگااوراگروسعت ہوتوسب سےبہترصورت یہ ہےکہ زیدبکرکوقرض معاف کردےاور زکوٰۃبھی اسی کو دیدے۔نیزواضح رہےکہ جس کوزکوٰۃدی جائےاس کوبتاناضروری نہیں کہ یہ رقم زکوٰۃکی ہے،بس نیت کافی ہے۔
قَالَ اللهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی: [البقرة: 280]
{ وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ}
مسند أحمد، أحمد بن محمد بن حنبل الشيباني (م:241 هـ)(24/278) الرسالة
15520 – عن أبي اليسر، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” من أحب أن يظله الله في ظله، فلينظر المعسر أو ليضع عنه “۔
الدرالمختار ،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(ص: 128)دارالكتب العلمية
وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه، ولو امتنع المديون مدَّ يده وأخذها لكونه ظفر بجنس حقه۔
وفيه أيضًا (ص: 752)
(نوى الزكاة إلا أنه سماه قرضا جاز) في الاصح، لان العبرة للقلب لا للسان۔