ایک شخص نے اپنے بیٹے کو دوکان خرید کر دی اور یہ کہاکہ جب دوکان چل پڑےگی تو تم نےیہ پیسے(یعنی جس کی دوکان میں نےخریدی ہے)واپس کرنے ہیں،پھراس شخص(باپ) کا انتقال ہوگیا،اب پوچھنایہ ہے کہ وہ پیسے قرضہ ہو کر تر کہ میں شامل ہوں گے یا نہیں؟پچھلے4سال کی زکوٰۃ کس کواداکرنی ہوگی ،بیٹے کو یا باپ کو ؟اور اس رقم پر زکوۃ آئے گی یا نہیں ¬¬؟۔
البحر الرائق،العلامة ابن نجيم (م:970ہ)(2/ 223)دار الكتاب الإسلامي
قسم أبو حنيفة الدين على ثلاثة أقسام: قوي، وہو بدل القرض، ومال التجارة، ومتوسط، وہو بدل ما ليس للتجارة كثمن ثياب البذلة وعبد الخدمة ودار السكنى، وضعيف، وہو بدل ما ليس بمال كالمہر والوصية، وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية، وبدل الكتابة والسعاية ففي القوي تجب الزكاة إذا حال الحول، ويتراخى القضاء إلى أن يقبض أربعين درہما ففيہا درہم، وكذا فيما زاد بحسابہ، وفي المتوسط لا تجب ما لم يقبض نصابا، ويعتبر لما مضى من الحول في صحيح الرواية، وفي الضعيف لا تجب ما لم يقبض نصابا ويحول الحول بعد القبض عليہ۔