زیدنےبکرسےسامان خریدااوربکرکوایک مہینہ بعدرقم کی ادائیگی کاوعدہ کیاحسب وعدہ بکرزید سےرقم کامطالبہ کرتاہےتوزیدکہتاہےکہ ابھی چونکہ رقم میرےپاس نہیں ہے لہٰذامیں آپ کویومیہ ہزارپر پانچ فیصد نفع دوں گا۔اب دریافت طلب امریہ ہےکہ زیدکایہ عمل شرعاًدرست ہے، زیدکایہ نفع دینااوربکرکانفع کی اضافی رقم وصول کرنا کیساہے؟
صور ت ِمسئولہ میں زیدکا بکرسےیہ کہناکہ”رقم نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو یومیہ ہزارپرپانچ فیصدنفع دوں گا” واضح سوداورحرام ہے؛ کیونکہ زیدبکرکامدیون ومقروض ہےاورمقروض سےادائیگی میں تاخیر کی وجہ سےاضافی رقم لیناسودہے۔ فریقین پرلازم ہےکہ فوری طورپراس معاملہ کوختم کریں اوراس پرتوبہ واستغفار کریں اوربکرزیدسےصرف اصل رقم وصول کرے۔اورمقروض پرلازم ہےکہ قرض کی ادائیگی جلدازجلد کرے اور بلا عذر تاخیرنہ کرے ۔