نمبر۱۔ قرآن مجید کو اتنا چھوٹا کر کے چھاپنا ، چھپوانا یا لکھنا کہ وہ تعویذ نما یا اس کے سائز کا ہو جائے۔اس کی شرعی حکم بقدر تفصیل درکار ہے۔
نمبر۲۔اتنے چھوٹے سائز والےقرآن مجید کو جیب میں رکھنا درست ہے یا نہیں؟
قرآن مجید کو چھوٹے سائز میں چھاپنا
نمبر۱۔قرآن مجید کو چھوٹے سائز میں نہایت خوشنما اور واضح باریک حرفوں میں لکھ کر چھاپنے میں کوئی حرج نہیں ، لیکن بہتر یہی ہے کہ قرآن کو بڑے بڑے حرفوں میں کشادہ سطور میں لکھ کر حجم بڑا کیا جائے۔
نمبر۲۔چھوٹے سائز کا قرآن مجید جیب میں رکھنا جائز ہے،البتہ جیب میں رکھ کر بیت الخلاء جانا بے ادبی اور مکروہ ہے،لہذا ایسی ضرورت کے وقت اسے کسی مناسب جگہ پر رکھنا چاہیے۔
الدر المختار (9/ 637)رشيدية
ويكره تصغير مصحف وكتابته بقلم دقيق يعني تنزيها
رد المحتار(9/ 637)رشيدية
(قوله ويكره تصغير مصحف) أي تصغير حجمه وينبغي أن يكتبه بأحسن خط وأبينه على أحسن ورق وأبيضه بأفخم قلم وأبرق مداد ويفرج السطور ويفخم الحروف ويضخم المصحف
الفتاوى الهندية (5/ 399)العلمية
عن الحسن عن أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – أنه يكره أن يصغر المصحف وأن يكتبه بقلم دقيق وهو قول أبي يوسف – رحمه الله تعالى -، قال الحسن وبه نأخذ، قال – رحمه الله تعالى -: لعله أراد كراهة التنزيه لا الإثم، وينبغي لمن أراد كتابة القرآن أن يكتبه بأحسن خط وأبينه على أحسن ورقة وأبيض قرطاس بأفخم قلم وأبرق مداد، ويفرج السطور ويفخم الحروف ويضم المصحف ويجرده عما سواه من التعاشير، وذكر الآي وعلامات الوقف صونا لنظم الكلمات كما هو مصحف الإمام عثمان بن عفان – رضي الله تعالى عنه -، كذا في القنية
الفتاوى الهندية (5/ 398)العلمية
سئل الفقيه أبو جعفر – رحمه الله تعالى – عمن كان في كمه كتاب فجلس للبول أيكره ذلك؟ . قال: إن كان أدخله مع نفسه المخرج يكره، وإن اختار لنفسه مبالا طاهرا في مكان طاهر لا يكره، وعلى هذا إذا كان في جيبه دراهم مكتوب فيها اسم الله تعالى، أو شيء من القرآن فأدخلها مع نفسه المخرج يكره، وإن اتخذ لنفسه مبالا طاهرا في مكان طاهر لا يكره، وعلى هذا إذا كان عليه خاتم وعليه شيء من القرآن مكتوب أو كتب عليه اسم الله تعالى فدخل المخرج معه يكره، وإن اتخذ لنفسه مبالا طاهرا في مكان طاهر لا يكره، كذا في المحيط
الدر المختار (1/ 355)رشيدية
تكره إذابة درهم عليه آية إلا إذا كسره رقية في غلاف متجاف لم يكره دخول الخلاء به، والاحتراز أفضل
فتاوی محمودیہ(3/502)فاروقیۃ
بعض چیزیں ایسی بھی ہیں کہ فقہاء نے ان کو مکروہ لکھا ہے، مثلاً: باریک قلم سے قرآن پاک کو لکھنا، حجم کو چھوٹا کرنا،بلکہ فقہاء کی تاکید ہے کہ موٹے قلم سے بڑے بڑے حرفوں میں کشادہ کشادہ سطور لکھ کر حجم بڑا کیا جائے، مگر یہ چیزیں بلا نکیر شائع ہیں، ہند میں بھی اور بیرون ہند میں بھی ، چنانچہ نہایت خوشنما باریک حرفوں میں لکھے ہوئے جیبی بلکہ اس سے بھی چھوٹے چھوٹے قرآن شریف مطابع سے چھپ کر آرہے ہیں، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ پہلے چھوٹے حرفوں میں لکھنا خلافِ احترام تھا، اس سے تحفظ کے لیے فقہاء نے تاکید کی تھی اور اب یہ چیز نہیں، پس علتِ کراہت باقی نہیں رہی۔