کیا یہ باتیں درست ہیں ؟ یاد رہے کہ حضرت مولانا سید زوّار حسین نقشبندی نے عمدۃ الفقہ حصہ دوم جنازہ کے باب میں اولیاء کرام کے مزارات پر گنبد بنانے کو جائز لکھا ہے ۔ علماء کرام ، اولیاء اللہ اور سادات کرام کی قبور پر قبہ وغیرہ بنانے میں کوئی حرج نہیں ،بلکہ یہ صحابہ کرام کے عمل سے بھی ثابت ہے جیسا کہ حسن مثنی کی بیوی نے اپنے شوہر کی قبر پر قبہ ڈالا جو کہ مشکوٰۃ باب البکاء میں موجود ہے ۔ نیز منتقی شرح المؤطا میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی قبر پر قبہ یعنی گنبد بنوایا ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی عبد الرحمٰن کی قبر پر اور حضرت محمد ابن حنفیہ نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی قبر پر بنایا۔ البتہ قبر کو پکا نہ کیا جائے یعنی قبر اندر سے پکی نہ کی جائے اور اگر اندر سے خام ہو ، اوپر سے پختہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
واضح رہے کہ قبر کو بلا ضرورت پختہ کرنا یا اس پر عمارت اور گنبد وغیرہ بنانا مطلقاًناجائز ہے،خواہ وہ کسی ولی کی قبر ہویا عام کسی مسلمان کی ہو ۔آپ نے جو حوالے جات پیش کیے ہیں ، اس کے جوابات ذیل میں ملاحظہ فرمایئے ۔
مشکوٰۃ المصابیح کی حدیث میں موجود لفظ قبہ سے علماء نے خیمہ مراد لیا ہے جو کہ عارضی طور پر تعزیت کے لیے آنے جانے والوں اور عبادت کرنے والوں کے لیے بنایا گیا تھا،ایک سال کے بعد اس کو اکھاڑ دیا گیا۔ (دیکھیےحوالہ نمبر 4،3،2)
اسی طرح المنتقی کی عبارت میں فسطاط سے مراد بھی خیمہ ہے(کیونکہ دوسری جگہ قبہ کی بجائے فسطاط کا لفظ آیا ہے جو خیمہ کے معنی میں ہے) جو کہ عارضی طور پرلگا یا جاتا ہے۔(دیکھیے عبارت نمبر 8،7،6،5) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قبر کھودنے والوں کے لیےگرمی سے بچاؤ کی غرض سےخیمہ لگا یا تھا جیسا کہ مستدرک حاکم کی ایک روایت میں “فی یوم صائف، فقال: لو أني ضربت عليهم فسطاطا” کے الفاظ ہیں ۔(دیکھیے حوالہ نمبر 9)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لگائے ہوئے خیمے کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اکھڑوا دیا تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ آگے چل کر اس کی شکل پختہ ہوتے ہوتےتبدیل ہوجائے گی ۔ بخاری شریف میں ” فقال: يا غلام إنزعه فإنما يظله عمله. کےالفاظ اس پر واضح ہیں ۔(دیکھیے حوالہ نمبر10)
صحابہ کرام کے عمل کی روشنی میں حضرت محمد بن حنفیہ ؒ کے خیمہ لگانے کا مقصد بھی بظاہریہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ خیمہ لوگوں کے اجتماع اور ان کو گرمی سے بچانے کے لیےلگایا گیاہوگا۔ کیونکہ صحابہ کرام،تابعین وسادات سے یہ بات بعید ہے کہ جس کام سے آپ ﷺ منع فرمائیں یہ حضرات اس کو اختیارکریں ۔
لہٰذا آپ کا گنبد وغیرہ بنانےکے جواز میں ان روایات سے استدلال کرنا سلف صالحین کی تشریحات کی روشنی میں ہرگزدرست نہیں ہے کیونکہ شراح حدیث کی تشریحات اس کے خلاف منقول ہیں۔ نیز حضرت مولانا زوّار حسین نقشبندی صاحب کی طرف گنبد وغیرہ بنانے کے جواز کےقول کی نسبت کرنا بھی غلط ہے،کیونکہ حضرت نے یہ قول بعض علماء کی طرف منسوب کر کے صرف نقل کیا ہے ،پھر اس کے بعدراجح قول ذکر کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ
صحیح یہ ہے کہ احادیث میں قبروں پر مطلقاً عمارت بنانے کی ممانعت وارد ہے اس لئے امام ابو حنیفہ وغیرھم سے یہی روایت ہے کہ یہ مکروہ ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے “( دیکھیئےعمدۃ الفقہ ص533) “
البتہ روضہ رسول پر گنبد خضراء سے کسی کو شبہ اور اشکال نہیں ہونا چاہیئے ، کیونکہ وہ حضور ﷺکی خصوصیت ہے اور اس میں آپ کی حفاظت کا راز مضمر ہے جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے ۔ نیز انبیاء کرام کی تدفین کے لیے قانونِ الٰہی یہ ہے کہ جہاں وہ وفات پائیں وہیں ان کی تدفین ہو ۔ آپ ﷺ کی وفات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے حجرہ مبارکہ میں ہوئی جو پہلے ہی سے تعمیر شدہ اور مسقّف تھا، اس کے بقاء کی صورت عمارت کی پختگی میں تھی ہے ۔اس لیےانہی بنیادوں پر مختلف زمانوں میں منقش پتھروں سے تغییر وتزیین ہو تی رہی ،حتی کہ ۶۷۸ ھ میں گنبدخضراء تعمیر کیا گیا، پھر ترک سلطنت میں عظیم الشان روح پرور گنبد خضراء بنایا گیا جوآج تک موجود ہے ۔لہٰذا گنبد خضراء پر قیاس کرتے ہوئے عام قبروں پر گنبد یا پختہ تعمیر کرنا جائزنہیں ہے۔
(ماخذہ : تبویب دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ 2/22)
نمبر1۔صحيح مسلم (2/ 667)
عن جابر، قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص القبر، وأن يقعد عليه، وأن يبنى عليه
نمبر2۔مشکاۃ المصابیح(۱/۵۴۸)
وعن البخاري تعليقا قال: لما مات الحسن بن الحسن بن علي ضربت امرأته القبة على قبره سنة ثم رفعت فسمعت صائحا يقول: ألا هل وجدوا ما فقدوا؟ فأجابه آخر: بل يئسوا فانقلبوا
نمبر3۔مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (3/ 1249)
القبة) أي: الخيمة. (على قبره سنة) الظاهر أنه لاجتماع الأحباب للذكر، والقراءة، وحضور الأصحاب للدعاء والمغفرة والرحمة، وأما جعل فعلها على العبث المكروه كما فعله ابن حجر فغير لائق بصنيع أهل البيت
نمبر4۔فتح الباري لابن حجر (3/ 200)
قوله القبة أي الخيمة فقد جاء في موضع آخر بلفظ الفسطاط
نمبر5۔ المنتقی شرح المؤطا(2/23)
وأما الفسطاط يضرب على القبر … وقد ضربه عمر على قبر زينب بنت جحش وكره ضربه على قبر الرجل ابن عمر وأبو هريرة وأبو سعيد الخدري وابن المسيب وضربته عائشة على قبر أخيها عبد الرحمن وضربه محمد بن الحنفية على قبر ابن عباس, وقال ابن حبيب: أراه في اليوم واليومين والثلاثة واسعا إذا خيف من نبش أو غيره
نمبر6۔عمدة القاري (8/ 135)
قال الجوهري: الفسطاط بيت من شعر
نمبر7۔فتح الباري لابن حجر (3/ 223)
الفسطاط بضم الفاء وسكون المهملة وبطاءين مهملتين هو البيت من الشعر
نمبر8۔تهذيب الأسماء واللغات (4/ 72)
الفسطاط بيت من شعر كذا قاله أهل اللغة
نمبر9۔المستدرك على الصحيحين للحاكم (4/ 25)
ومر عمر بن الخطاب، رضي الله عنه على حفارين يحفرون قبر زينب في يوم صائف فقال: «لو أني ضربت عليهم فسطاطا» وكان أول فسطاط ضرب على قبر بالبقيع
نمبر10۔عمدة القاري (8/ 183)
مر عبد الله بن عمر على قبر عبد الرحمن بن أبي بكر أخي عائشة، رضي الله تعالى عنهم، وعليه فسطاط مضروب، فقال: يا غلام إنزعه فإنما يظله عمله
نمبر11۔أوجز المسالک (6/136)
ومنھا حجرۃ عائشۃ رضی اللہ عنھا مدفن رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم وصاحبیہ ابی بکر و عمر رضی اللہ عنھما بنوا علی القبر حیطانا مرتفعۃ مستدیرۃ حولہ لئلا یظھر فی المسجد فیصلی الیھا العوام ویؤدی الی المحذور ثم بنوا جدارین من رکنی القبر الشمالین وحرفوھما حتی التقیا حتی لا یتمکن احد من استقبال القبر ولذا قالت عائشۃ رضی اللہ عنھا ولولا ذلک لابرز قبرہ غیر انہ خشی ان یتخذمسجدا
نمبر12۔رد المحتار (2/ 237)
وأما البناء عليه فلم أر من اختار جوازه. وفي شرح المنية عن منية المفتي: المختار أنه لا يكره التطيين. وعن أبي حنيفة: يكره أن يبني عليه بناء من بيت أو قبة أو نحو ذلك، لما روى جابر «نهى رسول الله – صلى الله عليه وسلم – عن تجصيص القبور، وأن يكتب عليها، وأن يبنى عليها» رواه مسلم وغيره
فتاوٰی محمودیہ (9/160)، کفایت المفتی (5/526)، فتاوٰی دارالعلوم دیوبند (5/335)