بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قبرستان کی زمین اوراس کےدرختوں کاحکم

سوال

سرکاری قبرستان میں کچھ درخت ہیں اس کےپڑوس میں کچھ لوگوں کی زمینیں ہیں، ایک فریق کےعلاوہ باقی سب کاکہنایہ ہےکہ قبرستان کےدرختوں کااصل حقدارمدرسہ ہےجوقبرستان کےقریب ہےاس کاکچھ حصہ قبرستان کی حدودمیں زیرِتعمیرہے،اورلوگوں نےقبرستان کی حدودجاننےکےلیےپٹواری کوبلایا، پٹواری نےوہ جگہ بھی قبرستان کی بتادی جس کویہ لوگ قبرستان میں شمارنہیں کرتےیعنی مدرسہ کےواش روم اوردو دکانیں جن کاکرایہ مدرسہ کوجاتاہے، اس کاکیاحکم ہے؟اورقبرستان کی حدودمیں پارکنگ کرنا، سیاسی ومذہبی جلسےکرنا،چائے خانہ بنانا، کھیل کودکرنا، کوڑاکرکٹ پھینکنا،ڈسپنسری بنانا،سڑکیں بنانا،اورجو قبرستان کی حدودمیں سڑکیں ہیں ان کی اجرت کاکیارول ہوگا؟اورجامع مسجدکےصحن کاحصہ قبرستان کی حدودمیں شامل ہےاس میں نمازپڑھنےکاکیاحکم ہے؟

جواب

جوجگہ سرکاری طورپرعرصہ ہائےدرازسےقبرستان کےلیےمقررہے، وہ شرعاً قبرستان کےلیے وقف سمجھی جائےگی۔ لہٰذا مذکورہ قبرستان میں موجودتمام خودرو درختوں میں عوام کواپنی مرضی سےتصرف کی اجازت نہیں ۔ حکومت کےمتعلقہ محکمہ کےذمہ داران وقف کی مصلحت کوسامنےرکھتےہوئے ان درختوں کوفروخت کرکےحاصل ہونےوالی آمدنی اسی قبرستان کی دیگرضروریات میں خرچ کرسکتےہیں۔ واضح رہےکہ مذکورہ وقف درختوں پرکسی شخص کاکوئی ذاتی حق نہیں ، نہ تومدرسہ اوراس کےطلبہ کا، نہ قریب لوگوں کا، اورنہ ہی قریبی زمین کے مالک کا۔ بلکہ یہ درخت حسبِ مصلحت قبرستان ہی کی ضروریات میں استعمال ہوسکتےہیں۔ لہٰذا جولوگ مذکورہ قبرستان کےدرختوں کو اپنے ذاتی یا مدرسہ کے استعمال میں لائےہیں، ان کےذمے ان درختوں کی قیمت کےبرابرضمان واجب ہوگا۔ اور اس رقم کوقبرستان کی ضروریات میں خرچ کیاجائےگا۔
نیزوقف قبرستان کی حدودکے اندرفٹبال یا دوسرےکھیل کھیلنا، سیاسی یا مذہبی جلسے منعقد کرنا، چائے خانہ بنانا، گاڑیوں کی پارکنگ کےلیے استعمال کرنا، ڈسپنسری بنانا، راستےبنانا، یہ سب عمل شرعاً ناجائز ہیں۔ اورکوڑاکرکٹ پھینکنا تواورزیادہ قبیح ہے۔ البتہ اگرکوئی سڑک قبرستان بننےسےقبل موجودہو تواس کا بلا اجرت استعمال کرناشرعاًدرست ہے۔
واضح رہےکہ جس قبرستان میں مردےدفن کیےجاتےہوں، اس میں مسجدیامدرسہ تعمیرکرنا وقف کرنےوالوں کی منشاکےخلاف ہونےکی وجہ سےجائزنہیں، لہٰذا بشرطِ صحت بیان جامع مسجدکےصحن کا وہ حصہ مسجد شرعی نہیں ہے۔ تاہم جب تک اس جگہ مردےدفنانےکی ضرورت پیش نہ آئے اوریہ جگہ قبرستان کی ضرورت سےزائدہو تواس جگہ کو بطورمصلی ٰباقی رکھاجاسکتاہے۔ نیز اگراس جگہ کےسامنےقبریں نہ ہوں تواس جگہ نمازاداکرنابھی جائزہے۔
الفتاوى الهندية (2/ 449)دارالفکر
وإذا كان في أرض الوقف نخيل وأشجار استغلها الغاصب سنين يعني الأشجار والنخيل ثم أراد  رد الأرض والنخيل والأشجار رد الغلة معها إن كانت قائمة بعينها وإن كانت مستهلكة ضمن مثلها، كذا في الذخيرة۔
الفتاوى الهندية (2/ 467) دارالفکر
أرض لأهل قرية جعلوها مقبرة وأقبروا فيها ثم إن واحدا من أهل القرية بنى فيها بناء لوضع اللبن وآلات القبر وأجلس فيها من يحفظ المتاع بغير رضا أهل القرية أو رضا بعضهم بذلك قالوا: إن كان في المقبرة سعة بحيث لا يحتاج إلى ذلك المكان فلابأس به وبعد ما بنى لو احتاجوا إلى ذلك المكان رفع البناء حتى يقبر فيه، كذا في فتاوى قاضي خان۔
الفتاوى الهندية (2/ 473) دارالفکر
مقبرة عليها أشجار عظيمة فهذا على وجهين: إما إن كانت الأشجار نابتة قبل اتخاذ الأرض أو نبتت بعد اتخاذ  الأرض مقبرة.  ففي الوجه الأول المسألة على قسمين: إما إن كانت الأرض مملوكة لها مالك، أو كانت مواتا لا مالك لها واتخذها أهل القرية مقبرة، ففي القسم الأول الأشجار بأصلها على ملك رب الأرض يصنع بالأشجار وأصلها ما شاء، وفي القسم الثاني الأشجار بأصلها على حالها القديم. وفي الوجه الثاني المسألة على قسمين: إما إن علم لها غارس أو لم يعلم، ففي القسم الأول كانت للغارس، وفي القسم الثاني الحكم في ذلك إلى القاضي إن رأى بيعها وصرف ثمنها إلى عمارة المقبرة فله ذلك، كذا في الواقعات الحسامية۔
رد المحتار،ابن عابدينالشامي(م: 1252هـ)(4/ 495)سعيد
وما خالف شرط الواقف فهو مخالف للنص وهو حكم لا دليل عليه، سواء كان نصه في الوقف نصا أو ظاهراهـ  وهذا موافق لقول مشايخنا كغيرهم، شرط الواقف كنص الشارع فيجب إتباعه۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس