بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قبرستان میں نماز،کھیل کوداور قضائے حاجت کا حکم

سوال

قبرستان میں کھیلنا کیسا ہے؟ اور قبرستان میں نماز پڑھنا اور وہاں قضاء حاجت وغیرہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

قبرستان میں کھیلنا،قضائے حاجت کرنا یہ سب ممنوع ہے اس طرح کے افعال سے بچنا لازم ہے اسی طرح قبروں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا بھی ممنوع ہے البتہ اگر قبر سامنے نہ ہو تو نماز پڑھنا درست ہے۔
صحیح البخاری (1/177) مکتبه عشرہ مبشرہ
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن شيبان، عن هلال هو الوزان، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال في مرضه الذي مات فيه: «لعن الله اليهود والنصارى، اتخذوا قبور أنبيائهم مسجدا»، قالت: ولولا ذلك لأبرزوا قبره غير أني أخشى أن يتخذ مسجدا۔
جامع الترمذی(1/203) مکتبه عشرہ مبشرہ
عن ابی مرژد الغنوی قال قال النبی ﷺلا تجلسوا علی القبور ولا تصلوا الیھا۔
رد المختار (2/513) رشیدیة
لا تکرہ الصلاۃ فی جھة قبر الا اذا کان بین یدیه۔
فتاوی قاضی خان (3/190) رشیدیة
مقبرۃ قدیمة لمحله لم یبق فیھا آثارالمقبرۃ ،ھل یباح لاھل المحلة الانتفاع بھا قال ابو نصر:لا یباح۔
الفاوی التاتارخانیة (3/73) مکتبه فاروقیة
ویکرہ ان یوطا علی القبر یعنی بالرجل او یقعد علیه او یقضی علیه حاجته۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس