بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قاتل کی بیٹی کےساتھ نکاح پرصلح کرنا

سوال

ایک شخص نےدوسرے شخص کوعمداًقتل کر دیا،اب مقتول کےورثاءقاتل کےقتل کی صلح اس کےگھرکی کسی لڑکی مثلاً(بہن،بیٹی وغیرہ)پرکرتےہیں کہ اس لڑکی کانکاح مقتول کےورثاء میں سےکسی سےکردو(اورمذکورہ صورت میں اس لڑکی کےساتھ مقتول کےورثاءکی طرف سےظلم کاخدشہ بھی ہے)آیااس صورت میں اس طرح صلح کرنادرست ہےیاپھرقاتل کوقصاصاًقتل کیاجائے؟

جواب

قتل کےبدلہ میں قاتل کوعدالتی چارہ جوئی کےذریعہ قتل کرواناہی ضروری نہیں ،بلکہ اسےمعاف بھی کیاجاسکتاہےاوروہی بہترہےیافریقین مال کی کسی مناسب مقدارپرصلح کرناچاہیں تواس کی بھی گنجائش ہے،البتہ سوال میں مذکورصلح کی صورت درست نہیں اس سےاجتناب کیاجائے۔
الدرالمختار،العلامة علاءالدين الحصكفي(م: 1088هـ)(6/548)سعيد
عفو الولي عن القاتل أفضل من الصلح، والصلح أفضل من القصاص۔
المحيط البرهانی،برهان الدين محمودبن أحمد(م: 616هـ)(17/407)دارالکتب العلمیة
والاصل فی جنس هذه المسائل ان ماصلح مهراًفی النکاح صلح بدلاًفی الصلح عن دم العمد و الا فلا۔
الفتاوی التاتارخانیة،فریدالدین عالم بن العلاءالهندی(م:789ه )(14/325)فاروقیة
وبدل الصلح فی دم العمدجارمجری المهر وکل جهالة تحملت فی المهرتتحمل هنا… وعندفسادالتسمیةیسقط العقود ویجب بدل النفس وهوالدیة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس