بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

فیسبک پیجز کی خریدو فرخت کا حکم

سوال

فیسبک کے پیج کے حوالے سے کہ ان کی خرید و فروخت کیسی ہے ؟ تفصیل یہ ہے کہ یہ اس طرح کہ پیج ہوتے ہیں ان پیج پر کسی طرح کی کوئی ویڈیو نہیں ہوتی اور یہ فیسبک کی مارکیٹ میں خریدنے یا بیچنے کے لیے موجود ہوتے ہیں ۔ مارکیٹ کے حساب سے ان کا ریٹ اوپر یا نیچے ہوتا رہتا ہے ۔ ضرورت کے مطابق ایک فریق جس کے پاس ایسے پیجز موجود ہوتے ہیں جن پر اپنا بنک لگانے کے بعد ان سے کمائی کی جا سکتی ہے اس کو خریدنے کے دو مقصد ہو سکتے ہیں ۔
نمبر۱۔ ان کو خرید کر جائز منافع کے عوض دوسرے فریق کو بیچا جا ئے ۔
نمبر۲۔اس پر بنک لگا کر خود اس پر کام کیا جائے اور اس پر منافع کمایا جائے ۔مزید بر آں یہ کہ یہ وہ پیجز ہوتے ہیں کہ جن پر تین طرح کہ ٹولز ہوتے ہیں جن کے نام (ایڈ اون ریلز) (انسٹریم ایڈز) (بونس) ہیں ان کی نوعیت ریڈ یا گرین ہوتی ہے ۔ریڈ کا مطلب یہ ہے کہ ان ٹولز پر جو پہلے سے موجود ہیں ارننگ نہیں کر سکتے اور گرین کا مطلب یہ ہے کہ ارننگ کر سکتے ہیں۔ پہلے سے موجود ٹولز کو ختم کر کے اس کی جگہ ایک نیا ٹول جس کا نام (کنٹینٹ مونیٹائزیشن) ہے اب پہلے والے ٹولز کی جگہ اب یہ نیا ٹولز ا رہا ہے جس کی خرید و فروخت کی جاتی ہے ۔ ان کی خرید و فروخت سبکرائبرز کی بنیاد پر نہیں ہوتی اور نہ ہی فالورز کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔

جواب

فیسبک پیج میں اگر اس حد تک کام ہو چکا ہو کہ لوگوں کی نظر میں ایک قیمتی اور قابل انتفاع چیز اور قابلِ انتفاع بن چکی ہو ، لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوں اور یہ پیج خلاف شرع مواد پر مشتمل نہ ہو۔ نیز اس کی خرید و فروخت میں سٹہ بازی، دھوکہ دہی نہ ہو تو اس کی خرید و فروخت کی گنجائش ہے ۔
 رد المحتار (4/ 501)سعید
 المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة، والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم، والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعا
الفقہ الاسلامی وادلتۃ
واما المال عند الجمہور الفقہاء غیر الحنفیۃ :فھو کل ما لہ قیمۃ متلفہ بضمانہ وھذا المعنی ھو الماخوذ بہ قانونا  فالمال فی القانون وھو کل ذی قیمۃ مالیۃ ….. حصر الحنفیۃ معنی المال فی أشیاء  أو الأعیان المادیۃ التی لھا مادۃ جرم محسوس. وأماالمنافع والحقوق فلیست أموالا عندھم وإنما ھی ملک لا مال .وغیر الحنفیۃ  اعتبروھا أموالا ،لأن المقصود من الأشیاء منافعھا  لا ذواتھا ،وھذا ھو الرائ الصحیح المعمول بہ فی قانون و فی عرف الناس  ومعاملاتھم و یجری علیھا الاحراز والحیازۃ
فقہ البیوع (1/27)
والواقع أنه لم يرد نص في القرآن الكريم والسنة النبوية يحدد المال ، أو يعرّفه بصفة دقيقة ، وإنما تركته الشريعة على العرف المتفاهم بين الناس ، ولذلك يقول إبن عابدين رحمه الله : والمالية تثبت بتمول الناس كافةً أو بعضهم فما عرف كونه مالاً فيما بين الناس بصفة عامة يعد مالاً إلا إذا ورد النص بخلافه ، كما في الخمر والخنزير . أما تقييده بالأعیان المادية فلم يرد بذلك نص ولم يطرد هذا التقييد في كثير من المسائل كما ذكرنا . وإن الكهرباء  والغاز أصبحا اليوم من أعز الاموال التي يجرى فيها التنافس ، ويصعب إدخالها في الأعيان القائمة بنفسها ومع ذلك يجوز بیعھما وشراؤهما . وقد تعامل الناس بذلك من غیر نکیر فما ذكرنا عن ابن عابدين من تعريف المال هوالراجح بدون تقییده بالأعيان القائمة بنفسها.  و مالیس بعین لا بحکم بعدم جواز بیعه لمجرد أنه ليس بعین مالم يلزم منه محظور آخر.  والمراد من قولهم” مايميل اليه الطبع” في تعريف المال أن يكون منتفعا به  فمالا ينتفع به ليس مالا   ولا يجوز كونه محلا للبيع والشراء
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس