کیا فرماتے ہیں مفتیان کرم اس مسئلہ کے بارے میں کہہ ایک شوہر اپنی بیوی پر ظلم و تشدد کرتا رہا اور بیوی تنگ آ کر شوہر سے خلع لینے کے عدالت چلی گئی ، عدالت کی طرف سے تین نوٹس اس کے شوہر کو ملے جبکہ شوہر نے کسی ایک نوٹس کا بھی جواب نہیں دیا اور کسی قسم کے کوئی دستخط نہیں کیے جس کے بعد عدالت نے اس کی بیوی کے حق میں خلع کا فیصلہ سنا دیا۔
سوال اور اس کے ساتھ منسلکہ عدالتی فیصلہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہوئی کہ مسماۃ مصباح نے اپنے شوہر کے خلاف جسمانی اور ذہنی تشدد کی بنیاد پر فسخ نکاح کا دعوی دائر کیا، عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران باضابطہ نوٹس کے ذریعے شوہر کو طلب کیا، لیکن شوہر نہ خود حاضر ہوا اور نہ ہی وکیل کے ذریعے کیس کا دفاع کیا۔ جس کے نتیجے میں عدالت نے یکطرفہ عورت کے حق میں فسخ نکاح کی ڈگری جاری کردی۔ اس فیصلہ میں فسخ نکاح کا سبب موجود ہے کہ شوہر بیوی پر ظلم کرتا رہا اسے جسمانی اذیت پہنچاتا رہا ، اور عدالت کے طلب کرنے پر شوہر عدالت میں حاضر بھی نہیں ہو جو اس کی طرف سے نکول عن الیمین کے حکم میں ہے، لہذا عدالت کی جانب سے جاری کردہ فیصلہ شرعاً معتبر ہے اور اب ان کے درمیان نکاح باقی نہیں رہا۔ اور عورت عدتِ طلاق گزار کر دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے۔