فری لانسر پہ لوگ کام کرتے ہیں اور یہ کسٹمرز کو فائور پلیٹ فارم سے ملاتی ہے جو اسرائیل کی کمپنی ہے آیا اس پہ آن لائن کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟
ہماری معلومات کے مطابق (فری لانسر ڈاٹ کام )پر کام کرنے والے لوگ اپنی سکلز کے ساتھ ( فائور)پلیٹ فارم میں رجسٹر ہوتے ہیں جس کے ذریعے انہیں کام کا آرڈر ملتا ہے،اس صورت میں پیسے کمانا اس شرط کے ساتھ جائز ہو سکتا ہے کہ جو کام ( ڈیزائننگ ،ویب ڈیولپمنٹ، وغیرہ) بھی ہو اس میں فحش تصاویر ،سودی کاروبار کی تشہیر یا تعاون وغیرہ ،جیسے خلافِ شرع مفاسد نہ ہوں نیز جعلی آرڈر اور براہِ راست ملنے والے آرڈر کے ذریعے اپنی آئی ڈی کو ہائیلائٹ نہ کیا گیا ہو ورنہ دھوکہ اور جھوٹ کا گناہ ہوگا ،اور کمپنی کو قانونی چارہ جوئی کا اختیار ہوگا۔
البتہ جہاں تک تعلق ہے اسرائیلی (غیر مسلم ) کمپنی سے کاروبار کرنے کی ؛تو اس میں اصولی بات یہ کہ اگر وہ اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدن کو مسلمانوں کے خلاف مذموم مقاصد میں استعمال نہ کرتے ہوں تو ان کے ساتھ کاروبار کرنا جائز ہے ،لیکن اگر کسی کمپنی کے بارے میں یقینی طور پر ایسا کرنا معلوم ہوجائے تو اس صورت میں اس کے ساتھ کاروبار کر کے اسے نفع پہنچانے سے گریز کرنا لازم ہے۔
احکام القران للجصاص(2 /429)رشیدیۃ
قولہ(ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان )نھی عن معاونۃ غیرنا علی معاصی اللہ تعالی۔۔
صحيح البخاري(كتاب البيوع /باب النجش)
عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: «نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن النجش۔
سنن ابن ماجه (کتاب التجارات/باب النھی عن الغش)
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس منا من غش۔
سنن الترمذي (كتاب البيوع/باب ما جاء فی کراھیۃ النجش فی البیوع)
عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وقال قتيبة: يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا تناجشوا۔
وفي الباب عن ابن عمر، وأنس. حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح والعمل على هذا عند أهل العلم كرهوا النجش. والنجش: أن يأتي الرجل الذي يفصل السلعة إلى صاحب السلعة فيستام بأكثر مما تسوى، وذلك عندما يحضره المشتري يريد أن يغتر المشتري به، وليس من رأيه الشراء إنما يريد أن يخدع المشتري بما يستام. وهذا ضرب من الخديعة. قال الشافعي: وإن نجش رجل، فالناجش آثم فيما يصنع، والبيع جائز، لأن البائع غير الناجش۔
فقہ البیوع(1/141) معارف القرآن
اما اذا لم یکن البائع احتفظ بسعر معلوم ، فالنجش ممنوع فی القانون الا نکلیزی ایضاً، بل صرح القانون انہ لو ثبت ان البائع اقام احدا للنجش ،فان الذی رسا عطاءہ واشتری السلعۃ فی الاخیرلہ الحق ان یرفع الامر الی القضاء ضدا البائع ویفسخ البائع علی اساس کونہ مبنیا علی الخدیعۃ ،اما من الناحیۃ الشرعیۃ ، فقد ذھب اکثر الفقھاء الی الناجش آثم بفعلہ ،ولکن البیع لا یبطل بذلک ۔۔۔ ولکن المتاخرین افتوا بخیار المغبون المغرور۔